مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (النِّكَاحُ بِدُونِ وَلِيٍّ بَاطِلٌ)
نکاح بلا ولی باطل ہو گا
حدیث نمبر: 3131
3131 - وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَكَحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلَيِّهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَإِنْ دَخَلَ بِهَا فَلَهَا الْمَهْرُ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا فَإِنِ اشْتَجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَابْنُ مَاجَهْ، وَالدَّارِمِيُّ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو عورت اپنے ولی کی اجازت کے بغیر اپنا نکاح کرے تو اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے۔ اگر اس (مرد) نے اس سے جماع کیا ہے تو وہ مہر کی حق دار ہے کیونکہ اس نے اس سے مباشرت کی ہے، اگر وہ (ولی) اختلاف کریں تو جس کا ولی نہ ہو تو سلطان (بادشاہ) اس کا ولی ہے۔“ اسنادہ حسن، رواہ احمد والترمذی وابوداؤد وابن ماجہ والدارمی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3131]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أحمد (66/6 ح 24876) والترمذي (1102 وقال: حسن) و أبو داود (2083) و ابن ماجه (1879) والدارمي (137/1 ح 2190)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن