مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (نِكَاحُ الوَطَى وَالسَّطَى)
وٹے سٹے کا نکاح
حدیث نمبر: 3146
3146 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: نَهَى عَنِ الشِّغَارِ ، وَالشِّغَارُ أَنْ يُزَوِّجَ الرَّجُلُ ابْنَتَهُ عَلَى أَنْ يُزَوِّجَهُ الْآخَرُ ابْنَتَهُ وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا صَدَاقٌ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ قَالَ: لَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے «نِکَاحِ الشِّغَارِ» ”نکاحِ شغار“ سے منع فرمایا ہے، اور شغار یہ ہے کہ آدمی اپنی بیٹی کی شادی اس شرط پر کرے کہ دوسرا آدمی اپنی بیٹی کی شادی اس سے کر دے اور ان دونوں کے درمیان مہر نہ ہو، اور مسلم کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”لَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ“ ”اسلام میں شغار (بٹے کا نکاح) نہیں ہے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3146]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5112) و مسلم (1415/57و1415/60) وذکره البغوي في مصابيح السنة (2337)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه