مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (لَا فَائِدَةَ مِنَ العَزْلِ أَوْ عَدَمِهِ)
عزل کرنے یا نہ کرنے سے کوئی فائدہ نہیں
حدیث نمبر: 3186
3186 - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزْوَةِ بَنِي الْمُصْطَلِقِ فَأَصَبْنَا سَبْيًا مِنْ سَبْيِ الْعَرَبِ، فَاشْتَهَيْنَا النِّسَاءَ وَاشْتَدَّ عَلَيْنَا الْعُزْبَةُ، وَأَحْبَبْنَا الْعَزْلَ فَأَرَدْنَا أَنْ نَعْزِلَ وَقُلْنَا: نَعْزِلُ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ أَظْهُرِنَا قَبْلَ أَنْ نَسْأَلَهُ؟ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ ذَلِكَ قَالَ: مَا عَلَيْكُمْ أَلَّا تَفْعَلُوا ; مَا مِنْ نَسَمَةٍ كَائِنَةٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلَّا وَهِيَ كَائِنَةٌ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم غزوہ بنی مصطلق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں روانہ ہوئے تو کچھ عرب لونڈیاں ہمارے ہاتھ لگیں، ہمیں عورتوں کی رغبت ہوئی اور عورتوں سے الگ رہنا ہمارے لیے دشوار ہو گیا اور ہم نے عزل کرنا پسند کیا، ہم نے عزل کرنے کا ارادہ کیا اور ہم نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیے بغیر عزل کرتے ہیں جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم میں موجود ہیں، ہم نے اس کے متعلق آپ سے مسئلہ دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا حرج ہے اگر تم ایسے نہ کرو؟ کیونکہ جس جان نے قیامت تک آنا ہے اس نے آنا ہی ہے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3186]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (4138) و مسلم (125/ 1438)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه