مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (العَزْلُ سِرًّا يُعَادِلُ دَفْنَ حَيٍّ)
عزل خفیہ طور پر زندہ درگور کرنے کے برابر
حدیث نمبر: 3189
3189 - وَعَنْ جُدَامَةَ بِنْتِ وَهْبٍ قَالَتْ: حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي أُنَاسٍ وَهُوَ يَقُولُ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْهَى عَنِ الْغِيلَةِ ، فَنَظَرْتُ فِي الرُّومِ وَفَارِسَ فَإِذَا هُمْ يُغِيلُونَ أَوْلَادَهُمْ فَلَا يَضُرُّ أَوْلَادَهُمْ ذَلِكَ شَيْئًا، ثُمَّ سَأَلُوهُ عَنِ الْعَزْلِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: ذَلِكَ الْوَأْدُ الْخَفِيُّ وَهِيَ (وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ) . رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
جُذامہ بنت وہب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، میں کچھ لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے: ”میں نے «الْغِيلَةَ» ”غیلہ“ (حالتِ حمل میں دودھ پلانے) سے منع کرنے کا ارادہ کیا، پھر میں نے رومیوں اور فارسیوں کو دیکھا کہ وہ اپنی اولاد کو حالتِ حمل میں دودھ پلاتے رہتے ہیں، اور یہ ان کی اولاد کو کچھ بھی نقصان نہیں پہنچاتا۔“ پھر انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے «الْعَزْلِ» ”عزل“ کے متعلق دریافت کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”یہ «الْوَأْدُ الْخَفِيُّ» ”پوشیدہ طور پر زندہ درگور کرنا“ ہے۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَإِذَا الْمَوْعُودَةُ سُئِلَتْ﴾ [سورة التكوير: 8] ”جب زندہ درگور کی گئی بچی سے پوچھا جائے گا“ کے زمرہ میں آتا ہے۔“ (رواہ مسلم) [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3189]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (141/ 1442)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح