مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (الزَّوَاجُ بِمَهْرٍ زَوْجٍ مِنَ الأَحْذِيَةِ)
ایک جوڑی جوتے کے مہر پر نکاح
حدیث نمبر: 3206
3206 - وَعَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ أَنَّ امْرَأَةً مَنْ بَنِي فَزَارَةَ تَزَوَّجَتْ عَلَى نَعْلَيْنِ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَرَضِيتِ مِنْ نَفْسِكِ وَمَالِكِ بِنَعْلَيْنِ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، فَأَجَازَهُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو فزارہ قبیلے کی ایک عورت نے جوتوں کے جوڑے کے عوض شادی کر لی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: ”کیا تم خود کو اور اپنے مال کو جوتوں کے جوڑے کے عوض دینے پر راضی ہو؟“ اس نے عرض کیا: جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس (نکاح) کو نافذ فرما دیا۔ «إِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ، رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ» ”اس کی سند ضعیف ہے، اسے ترمذی نے روایت کیا ہے“۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3206]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (1113 وقال: حسن صحيح)
٭ عاصم بن عبيد الله: ضعيف .»
٭ عاصم بن عبيد الله: ضعيف .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف