🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

--. (شَكَاوَى امْرَأَةٍ فِي بَارِغَةِ النُّبُوَّةِ)
بارگاہ نبوت میں ایک عورت کی شکایات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3269
3269 - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَحْنُ عِنْدَهُ قَالَتْ: زَوْجِي صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ يَضْرِبُنِي إِذَا صَلَّيْتُ وَيُفَطِّرُنِي إِذَا صُمْتُ، وَلَا يُصَلِّي الْفَجْرَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، قَالَ: وَصَفْوَانُ عِنْدَهُ، قَالَ: فَسَأَلَهُ عَمَّا قَالَتْ: قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَّا قَوْلُهَا يَضْرِبُنِي إِذَا صَلَّيْتُ فَإِنَّهَا تَقْرَأُ بِسُورَتَيْنِ وَقَدْ نَهَيْتُهَا، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: لَوْ كَانَتْ سُورَةً وَاحِدَةً لَكَفَتِ النَّاسَ. قَالَ: وَأَمَّا قَوْلُهَا يُفَطِّرُنِي إِذَا صُمْتُ فَإِنَّهَا تَنْطَلِقُ تَصُومُ وَأَنَا رَجُلٌ شَابٌّ فَلَا أَصْبِرُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا تَصُومُ امْرَأَةٌ إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا  ، وَأَمَّا قَوْلُهَا إِنِّي لَا أُصَلِّي حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَإِنَّا أَهْلُ بَيْتٍ قَدْ عُرِفَ لَنَا ذَلِكَ لَا نَكَادُ نَسْتَيْقِظُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، قَالَ: فَإِذَا اسْتَيْقَظْتَ يَا صَفْوَانُ فَصَلِّ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ.
ابو سعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ ایک عورت آپ کے پاس آئی تو اس نے عرض کیا: میرا خاوند صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ، جب میں نماز پڑھتی ہوں تو وہ مجھے مارتا ہے، جب میں (نفلی) روزہ رکھتی ہوں تو وہ مجھے افطار کرنے کا حکم دیتا ہے، اور وہ سورج طلوع ہونے پر نماز فجر پڑھتا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں، صفوان رضی اللہ عنہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ہی تھے، راوی نے کہا: آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس چیز کے متعلق جو اس (عورت) نے کہی تھی صفوان رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا، تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! رہا اس کا یہ کہنا کہ جب میں نماز پڑھتی ہوں تو وہ مجھے مارتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ دو سورتیں پڑھتی ہے حالانکہ میں نے اسے منع کیا ہے، راوی بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صفوان رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اگر ایک ہی سورت ہوتی تو وہ لوگوں کے لیے کافی ہوتی۔“ صفوان رضی اللہ عنہ نے کہا: رہا اس کا یہ کہنا کہ جب میں روزہ رکھتی ہوں تو وہ مجھے افطار کرا دیتا ہے، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ روزے رکھتی چلی جاتی ہے جبکہ میں نوجوان آدمی ہوں، میں (جماع سے) رُک نہیں سکتا، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”عورت اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر (نفلی) روزے نہ رکھے۔“ اور اس کا یہ کہنا کہ میں سورج طلوع ہونے پر نماز پڑھتا ہوں، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے گھرانے کے متعلق مشہور ہے کہ ہم سورج طلوع ہونے پر ہی بیدار ہوتے ہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”صفوان! جب تم بیدار ہو تب نماز پڑھ لیا کرو۔“ سندہ ضعیف، رواہ ابو داود و ابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3269]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه أبو داود (2459) و ابن ماجه (1762) ٭ الأعمش عنعن .»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں