مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (إِقَامَةُ عَلَاقَاتٍ زَوْجِيَّةٍ قَبْلَ دَفْعِ كَفَّارَةِ الظِّهَارِ)
ظہار کا کفارہ ادا کرنے سے پہلے ازدواجی تعلقات قائم کرنا
حدیث نمبر: 3302
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 3302 - عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا -: أَنَّ رَجُلًا ظَاهَرَ مِنِ امْرَأَتِهِ فَغَشِيَهَا قَبْلَ أَنْ يَكَفِّرَ ، فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ. فَقَالَ: مَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟!"قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! رَأَيْتُ بَيَاضَ حِجْلَيْهَا فِي الْقَمَرِ ; فَلَمْ أَمْلِكْ نَفْسِي أَنْ وَقَعَتُ عَلَيْهَا. فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَمَرَهُ أَنْ لَا يَقْرَبَهَا حَتَّى يُكَفِّرَ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ. وَرَوَى التِّرْمِذِيُّ نَحْوَهُ، وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ. وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ، وَالنَّسَائِيُّ نَحْوَهُ مُسْنَدًا وَمُرْسَلًا. وَقَالَ النَّسَائِيُّ: الْمُرْسَلُ أَوْلَى بِالصَّوَابِ مِنَ الْمُسْنَدِ.
عکرمہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی سے ظہار کیا تو اس نے کفارہ ادا کرنے سے پہلے اس سے جماع کر لیا، پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے اس کے متعلق آپ کو بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں کس چیز نے اس پر آمادہ کیا؟“ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے چاندنی رات میں اس کی پازیب کی سفیدی دیکھی تو مجھ سے رہا نہ گیا اور میں اس سے ہم بستر ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرا دیے اور اسے حکم فرمایا کہ وہ کفارہ ادا کرنے سے پہلے اس کے قریب نہ جائے۔ ابن ماجہ۔ اور امام ترمذی رحمہ اللہ نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے، اور فرمایا: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ اور امام ابوداؤد اور امام نسائی رحمہما اللہ نے اسی مثل مسند اور مرسل روایت کیا ہے، اور امام نسائی رحمہ اللہ نے فرمایا: مرسل درست ہونے میں، مسند سے اولیٰ ہے۔ اس کی سند حسن ہے، اسے ابن ماجہ، ترمذی، ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3302]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه ابن ماجه (2065) و الترمذي (1199) و أبو داود (2221) و النسائي (167/6 ح 3487 مسندًا و ح 3488 مرسلاً)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن