مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (لَا تُقَامُ الْحَدُّ بِدُونِ شَهَادَاتٍ)
گواہیوں کے بغیر حد جاری نہیں ہو گی
حدیث نمبر: 3307
3307 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا -: أَنَّ هِلَالَ بْنَ أُمَيَّةَ قَذَفَ امْرَأَتَهُ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِشَرِيكِ بْنِ سَحْمَاءَ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -"الْبَيِّنَةَ أَوْ حَدًّا فِي ظَهْرِكَ". فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِذَا رَأَى أَحَدُنَا عَلَى امْرَأَتِهِ رَجُلًا يَنْطَلِقُ يَلْتَمِسُ الْبَيِّنَةَ؟ فَجَعَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:"الْبَيِّنَةَ وَإِلَّا حَدٌّ فِي ظَهْرِكَ": فَقَالَ هِلَالٌ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنِّي لَصَادِقٌ، فَلْيُنْزِلَنَّ اللَّهُ مَا يُبَرِّئُ ظَهْرِي مِنَ الْحَدِّ، فَنَزَلَ جِبْرِيلُ، وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ: (وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ) : فَقَرَأَ حَتَّى بَلَغَ (إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ) فَجَاءَ هِلَالٌ فَشَهِدَ وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:"إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ، فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ؟": ثُمَّ قَامَتْ، فَشَهِدَتْ فَلَمَّا كَانَتْ عِنْدَ الْخَامِسَةِ وَقَفُوهَا، وَقَالُوا: إِنَّهَا مُوجِبَةٌ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَتَلَكَّأَتْ وَنَكَصَتْ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهَا تَرْجِعُ، ثُمَّ قَالَتْ: لَا أَفْضَحُ قَوْمِي سَائِرَ الْيَوْمِ، فَمَضَتْ. وَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"أَبْصِرُوهَا، فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ الْعَيْنَيْنِ سَابِغَ الْأَلْيَتَيْنِ، خَدَلَّجَ السَّاقِينَ ; فَهُوَ لِشَرِيكِ بْنِ سَحْمَاءَ) :، فَجَاءَتْ بِهِ كَذَلِكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"لَوْلَا مَا مَضَى مِنْ كِتَابِ اللَّهِ ; لَكَانَ لِي وَلَهَا شَأْنٌ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اپنی بیوی پر شریک بن سحماء کے ساتھ زنا کی تہمت لگائی تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ثبوت پیش کرو، ورنہ تمہاری پشت پر حد قائم ہو گی۔“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! جب ہم میں سے کوئی اپنی بیوی کو حالتِ زنا میں دیکھے تو کیا وہ گواہ تلاش کرنے چلا جائے؟ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”گواہ پیش کرو ورنہ تمہاری پشت پر حد قائم کی جائے گی۔“ ہلال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے! میں یقیناً سچا ہوں، اللہ تعالیٰ ایسا حکم ضرور نازل فرمائے گا جو مجھے حد سے بچا لے گا۔ پس جبریل علیہ السلام تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یہ آیات نازل فرمائیں: ﴿وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ ... إِن كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ﴾ [سورة النور: 6 - 9] ”جو لوگ اپنی بیویوں پر تہمت لگاتے ہیں ......... اگر وہ سچوں میں سے ہے۔“ ہلال رضی اللہ عنہ آئے تو انہوں نے گواہی دی (یعنی لعان کیا) جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے: ”یقیناً تم میں سے ایک جھوٹا ہے، تو کیا تم میں سے کوئی توبہ کرنے کے لیے تیار ہے؟“ پھر عورت کھڑی ہوئی تو اس نے گواہی دی (لعان کیا)؛ جب وہ پانچویں گواہی پر پہنچی تو لوگوں نے اسے روکا اور انہوں نے کہا کہ یہ (پانچویں گواہی) واجب کرنے والی ہے؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اس نے توقف کیا اور خاموشی اختیار کی حتیٰ کہ ہم نے سمجھا کہ وہ (اپنے موقف سے) رجوع کر لے گی، پھر اس نے کہا: میں ہمیشہ کے لیے اپنی قوم کو رسوا نہیں کروں گی۔ چنانچہ اس نے پانچویں گواہی بھی دے دی تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اسے دیکھو! اگر یہ سرمئی آنکھوں والے، بڑے سرین والے اور موٹی پنڈلیوں والے بچے کو جنم دے تو پھر وہ شریک بن سحماء کا ہے۔“ اس نے اسی طرح کے بچے کو جنم دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اللہ کا حکم (کہ لعان کے بعد حد جاری نہیں کی جائے گی) پہلے سے نہ آیا ہوتا تو میں اسے ضرور سزا دیتا۔“ [رواہ البخاری] [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3307]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (4747)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح