مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (إِذَا كَانَتِ الْمَحَبَّةُ فَاحْرُسْ زَوْجَتَكَ)
محبت ہے تو بیوی کی نگہبانی کرو
حدیث نمبر: 3317
3317 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: إِنَّ لِي امْرَأَةً لَا تَرُدُّ يَدَ لَامِسٍ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"طَلِّقْهَا": قَالَ: إِنِّي أُحِبُّهَا. قَالَ:"فَأَمْسِكْهَا إِذَنْ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَالنَّسَائِيُّ، وَقَالَ النَّسَائِيُّ: رَفَعَهُ أَحَدُ الرُّوَاةِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَحَدُهُمْ لَمْ يَرْفَعْهُ. وَقَالَ: وَهَذَا الْحَدِيثُ لَيْسَ بِثَابِتٍ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا: میری بیوی ہے جو کسی چھونے والے کا ہاتھ نہیں روکتی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اسے طلاق دے دو۔“ اس نے عرض کیا: میں اس سے محبت کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اسے اپنے نکاح میں رکھ۔“ اور امام نسائی رحمہ اللہ نے فرمایا: کسی راوی نے اسے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوع نقل کیا ہے اور کسی نے مرفوعاً ذکر نہیں کیا۔ چنانچہ امام نسائی رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ حدیث ثابت نہیں۔ اسنادہ صحیح، رواہ ابوداؤد والنسائی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3317]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه أبو داود (2049) والنسائي (169/6. 170 ح 3494. 3495)
٭ سند المرفوع صحيح و أعل بما لا يقدح .»
٭ سند المرفوع صحيح و أعل بما لا يقدح .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح