مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (يَجِبُ قَضَاءُ الْعِدَّةِ فِي مَكَانٍ مُنَاسِبٍ)
عدت کی مناسب جگہ گزاری جائے
حدیث نمبر: 3324
(15) بَابُ الْعِدَّةِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 3324 - عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ طَلَّقَهَا الْبَتَّةَ وَهُوَ غَائِبٌ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا وَكِيْلُهُ الشَّعِيرَ فَسَخِطَتْهُ، فَقَالَ: وَاللَّهِ، مَا لَكِ عَلَيْنَا مِنْ شَيْءٍ. فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ. فَقَالَ:"لَيْسَ لَكِ نَفَقَةٌ". فَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ أُمِّ شَرِيكٍ، ثُمَّ قَالَ:"تِلْكِ امْرَأَةٌ يَغْشَاهَا أَصْحَابِي، اعْتَدِّي عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى، تَضَعِينَ ثِيَابَكِ فَإِذَا حَلَلْتِ فَآذِنِينِي. قَالَتْ: فَلَمَّا حَلَلْتُ ذَكَرْتُ لَهُ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ وَأَبَا جَهْمٍ خَطَبَانِي. فَقَالَ:"أَمَّا أَبُو الْجَهْمِ فَلَا يَضَعُ عَصَاهُ عَنْ عَاتِقِهِ، وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ فَصُعْلُوكٌ لَا مَالَ لَهُ، انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، فَكَرِهْتُهُ، ثُمَّ قَالَ:"انْكِحِي أُسَامَةَ"فَنَكَحْتُهُ، فَجَعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا وَاغْتَبَطْتُ. وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهَا:"فَأَمَّا أَبُو جَهْمٍ فَرَجُلٌ ضَرَّابٌ لِلنِّسَاءِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَفِي رِوَايَةٍ: أَنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا ثَلَاثًا، فَأَتَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ:"لَا نَفَقَةَ لَكِ إِلَّا أَنْ تَكُونِي حَامِلًا".
ابو سلمہ، فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ ابوعمرو بن حفص نے انہیں آخری طلاق اس وقت دی جب وہ مدینہ منورہ سے باہر تھے، چنانچہ ابوعمرو بن حفص کے وکیل نے وہ ”جو“ فاطمہ کے سپرد کر دیے جو ابوعمرو نے ان کے لیے بھیجے تھے، وہ اس سے ناراض ہو گئیں، اس پر (اس کے وکیل) نے کہا: اللہ کی قسم! تمہارا ہم پر کوئی حق نہیں، چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے لیے کوئی نفقہ نہیں“، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں ام شریک کے گھر عدت گزارنے کا حکم فرمایا، پھر فرمایا: ”وہ ایسی خاتون ہیں، کہ میرے صحابہ ان کے پاس آتے جاتے ہیں، لہٰذا تم ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے ہاں عدت گزارو، کیونکہ وہ نابینا شخص ہے، تم اپنے معمول کے کپڑے پہن کر رہ سکتی ہو، جب تم عدت گزار لو تو مجھے مطلع کرنا۔“ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب میں نے عدت گزار لی تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتایا کہ معاویہ بن ابی سفیان اور ابوجہم رضی اللہ عنہما نے مجھے پیغام نکاح بھیجا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ابوجہم! وہ تو اپنی لاٹھی اپنے کندھے سے نہیں اتارتا (سخت مزاج ہے)، اور رہا معاویہ تو وہ فقیر آدمی ہے، اس کے پاس کوئی مال نہیں، تم اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے نکاح کر لو۔“ میں نے اسے ناپسند کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اسامہ سے نکاح کر لو۔“ میں نے ان سے نکاح کر لیا، اللہ نے اس میں خیر فرما دی اور میں قابل رشک بن گئی۔ اور انہی سے ایک روایت میں ہے: ”ابوجہم! وہ تو عورتوں کو بہت مارنے والا ہے۔“ «رَوَاهُ مُسْلِمٌ» ”اسے مسلم نے روایت کیا ہے“۔ اور ایک روایت میں ہے کہ ان کے خاوند نے جب انہیں تین طلاقیں دے دیں تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”تمہارے لیے صرف حاملہ ہونے کی صورت میں نفقہ ہے، ویسے کوئی نفقہ نہیں۔“ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3324]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (1480/36)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح