مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (أَحْكَامُ وَمَسَائِلُ الْعِدَّةِ)
عدت کے احکام و مسائل
حدیث نمبر: 3331
3331 - وَعَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"لَا تُحِدُّ امْرَأَةٌ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ، وَلَا تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلَّا ثَوْبَ عَصْبٍ، وَلَا تَكْتَحِلُ، وَلَا تَلْمِسُ طِيبًا، إِلَّا إِذَا طَهُرَتْ نُبْذَةً مِنْ قُسْطٍ أَوْ أَظْفَارٍ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَزَادَ أَبُو دَاوُدَ:"لَا تَخْتَضِبُ".
ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی عورت کسی میت پر تین دن سے زائد سوگ نہ کرے، البتہ خاوند پر چار ماہ دس دن کا سوگ کرے، اور وہ یمنی لکیر دار چادر کے سوا رنگے ہوئے کپڑے بھی نہ پہنے، نہ سرمہ ڈالے اور نہ خوشبو لگائے، البتہ جب وہ حیض سے پاک ہو جائے تو پھر «قُسْطٍ» ”قُسط“ یا «أَظْفَارٍ» ”اظفار“ کی معمولی سی خوشبو لگا لے۔“ بخاری، مسلم۔ اور ابو داود نے یہ اضافہ نقل کیا ہے: ”وہ مہندی نہ لگائے۔“ متفق علیہ، رواہ ابو داود۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3331]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5342) و مسلم (938/66) و أبو داود (2302)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه