مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (ذِكْرُ أَيَّامِ عِدَّةِ السَّيِّدَةِ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے عدت کے دنوں کا تذکرہ
حدیث نمبر: 3333
3333 - وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ تُوُفِّيَ أَبُو سَلَمَةَ وَقَدْ جَعَلْتُ عَلَيَّ صَبِرًا. قَالَ:"مَا هَذَا يَا أُمَّ سَلَمَةَ؟) : قُلْتُ: إِنَّمَا هُوَ صَبِرٌ لَيْسَ فِيهِ طِيبٌ. فَقَالَ:"إِنَّهُ يَشُبُّ الْوَجْهَ فَلَا تَجْعَلِيهِ إِلَّا بِاللَّيْلِ، وَتَنْزِعِيهِ بِالنَّهَارِ، وَلَا تَمْتَشِطِي بِالطِّيبِ وَلَا بِالْحِنَّاءِ فَإِنَّهُ خِضَابٌ". قُلْتُ: بِأَيِّ شَيْءٍ أَمْتَشِطُ؟ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ:"بِالسِّدْرِ تُغَلِّفِينَ بِهِ رَأْسَكِ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَالنَّسَائِيُّ.
ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، جب ابوسلمہ رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں نے ایلوے کا عرق لگایا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ام سلمہ! یہ کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: یہ تو ایلوے کا عرق ہے! اس میں کوئی خوشبو نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”یہ چہرے کو چمکا دیتا ہے، اسے رات کے وقت لگا لیا کرو اور دن کے وقت صاف کر دیا کرو، خوشبو لگا کر کنگھی بھی نہ کرو اور نہ مہندی لگا کر کنگھی کرو، کیونکہ وہ خضاب ہے۔“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں کس چیز کے ساتھ کنگھی کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بیری (کے پتوں) کے ساتھ، تم اپنے سر پر ان کا لیپ کر لیا کرو۔“ «إِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ» ”اس کی سند ضعیف ہے“، اسے ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3333]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (2305) والنسائي (204/6 ح 3567)
٭ أم حکيم: لا يعرف حالھا و المغيرة بن الضحاک: مستور.»
٭ أم حکيم: لا يعرف حالھا و المغيرة بن الضحاک: مستور.»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف