مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (تَسْلِيمُ ابْنَةِ السَّيِّدِ حَمْزَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى خَالَتِهَا)
حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی کو خالہ کے سپرد کرنا
حدیث نمبر: 3377
3377 - وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: صَالَحَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ عَلَى ثَلَاثَةِ أَشْيَاءَ : عَلَى أَنَّ مَنْ أَتَاهُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ رَدَّهُ إِلَيْهِمْ، وَمَنْ أَتَاهُمْ مِنَ الْمُسْلِمِينَ لَمْ يَرُدُّوهُ، وَعَلَى أَنْ يَدْخُلَهَا مِنْ قَابِلٍ وَيُقِيمَ بِهَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَلَمَّا دَخَلَهَا وَمَضَى الْأَجَلُ خَرَجَ، فَتَبِعَتْهُ ابْنَةُ حَمْزَةَ تُنَادِي: يَا عَمِّ! يَا عَمِّ! فَتَنَاوَلَهَا عَلِيٌّ، فَأَخَذَ بِيَدِهَا، فَاخْتَصَمَ فِيهَا عَلِيٌّ وَزَيْدٌ وَجَعْفَرٌ. قَالَ عَلِيٌّ: أَنَا أَخَذْتُهَا وَهِيَ بِنْتُ عَمِّي. وَقَالَ جَعْفَرٌ: بِنْتُ عَمِّي وَخَالَتُهَا تَحْتِي. وَقَالَ زَيْدٌ: بِنْتُ أَخِي فَقَضَى بِهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِخَالَتِهَا، وَقَالَ:"الْخَالَةُ بِمَنْزِلَةِ الْأُمِّ". قَالَ لَعَلِيٍّ:"أَنْتَ مِنِّي وَأَنَا مِنْكَ". وَقَالَ لِجَعْفَرٍ:"أَشْبَهْتَ خَلْقِي وَخُلُقِي". وَقَالَ لِزَيْدٍ:"أَنْتَ أَخُونَا وَمَوْلَانَا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حدیبیہ کے موقع پر تین اشیاء پر صلح فرمائی، کہ مشرکین میں سے جو شخص ان کی طرف آئے گا اسے ان (مشرکین) کی طرف واپس کیا جائے گا، اور جو مسلمانوں کی طرف سے ان کے پاس چلا جائے تو اسے واپس نہیں کیا جائے گا، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آئندہ سال مکہ میں داخل ہوں گے اور وہاں تین روز قیام کریں گے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس (مکہ) میں داخل ہوئے اور مدت پوری ہو گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے واپسی کا ارادہ فرمایا تو حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے ”چچا جان! چچا جان!“ کہہ کر آوازیں دینے لگی تو علی رضی اللہ عنہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ کر لیا، اس کے ساتھ ہی علی رضی اللہ عنہ، جعفر رضی اللہ عنہ اور زید رضی اللہ عنہ کے درمیان حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی کے بارے میں تنازع شروع ہو گیا؛ علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے اسے پکڑا ہے اور وہ میرے چچا کی بیٹی ہے، جعفر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ میرے چچا کی بیٹی ہے اور اس کی خالہ میری بیوی ہے، اور زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرے بھائی کی بیٹی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے متعلق اس کی خالہ کے حق میں فیصلہ کیا اور فرمایا: «الْخَالَةُ بِمَنْزِلَةِ الْأُمِّ» ”خالہ ماں کی جگہ پر ہے۔“ اور علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: «أَنْتَ مِنِّي وَأَنَا مِنْكَ» ”تم مجھ سے ہو اور میں تجھ سے ہوں۔“ جعفر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: «أَشْبَهْتَ خَلْقِي وَخُلُقِي» ”تم خَلق و خُلق (سیرت و صورت) میں مجھ سے مشابہ ہو۔“ اور زید رضی اللہ عنہ سے فرمایا: «أَنْتَ أَخُونَا وَمَوْلَانَا» ”تم ہمارے بھائی اور ہمارے چہیتے ہو۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3377]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (4251) و مسلم (1783/90)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه