مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (ثَوَابُ الْعِبَادَةِ الْمَالِيَّةِ يَصِلُ إِلَى الْمَيِّتِ)
مالی عبادت کا ثواب میت کو پہنچتا ہے
حدیث نمبر: 3403
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 3403 - عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -: أَنَّ أُمَّهُ أَرَادَتْ أَنْ تَعْتِقَ، فَأَخَّرَتْ ذَلِكَ إِلَى أَنْ تُصْبِحَ، فَمَاتَتْ. قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: فَقُلْتُ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ: أَيَنْفَعُهَا أَنْ أَعْتِقَ عَنْهَا؟ فَقَالَ الْقَاسِمُ: أَتَى سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: إِنَّ أُمِّي هَلَكَتْ، فَهَلْ يَنْفَعُهَا أَنْ أَعْتِقَ عَنْهَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"نَعَمْ". رَوَاهُ مَالِكٌ.
عبدالرحمن بن ابی عمرہ انصاری سے روایت ہے کہ ان کی والدہ نے غلام آزاد کرنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے اسے صبح تک مؤخر کر دیا، سو وہ فوت ہو گئیں، عبدالرحمن بیان کرتے ہیں، میں نے قاسم بن محمد سے کہا: اگر میں ان کی طرف سے غلام آزاد کر دوں تو کیا انہیں فائدہ ہو گا؟ قاسم نے کہا: سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کیا: میری والدہ فوت ہو گئی ہیں، اگر میں ان کی طرف سے غلام آزاد کروں تو کیا انہیں فائدہ ہو گا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ حسن، رواہ مالک۔ [مشكوة المصابيح/كتاب العتق/حدیث: 3403]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه مالک (779/2 ح 1555)
٭ قاسم بن محمد لم يدرک عبادة و للحديث شواھد عند البخاري (2761) و مسلم (1638) و النسائي (3689. 3694) وغيرهم بألفاظ أخري غير ذکر العتيق، وله شاھد تقدم (3077)»
٭ قاسم بن محمد لم يدرک عبادة و للحديث شواھد عند البخاري (2761) و مسلم (1638) و النسائي (3689. 3694) وغيرهم بألفاظ أخري غير ذکر العتيق، وله شاھد تقدم (3077)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:حسن