مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (يُمْكِنُ فِعْلُ مَا يُخَالِفُ الْقَسَمَ بَعْدَ دَفْعِ كَفَّارَتِهِ)
قسم کا کفارہ دے کر قسم کے خلاف کیا جا سکتا ہے
حدیث نمبر: 3412
3412 - وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ سَمُرَةَ! لَا تَسْأَلِ الْإِمَارَةَ ; فَإِنَّكَ إِنْ أُوتِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ وُكِلْتَ إِلَيْهَا، وَإِنْ أُوتِيتَهَا عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا، وَإِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ وَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ". وَفِي رِوَايَةٍ:"فَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”عبدالرحمٰن بن سمرہ! امارت مت طلب کرنا، اگر وہ تمہیں تمہاری طلب پر دے دی گئی تو تم اس کے سپرد کر دیے جاؤ گے اور اگر وہ طلب کیے بغیر تمہیں دے دی گئی تو اس پر تمہاری مدد کی جائے گی، اور جب تم کسی چیز پر قسم اٹھا لو اور پھر تم اس کے غیر کو بہتر جانو تو اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دو اور جو بہتر ہو اسے اختیار کر لو۔“ اور ایک دوسری روایت میں ہے: ”جو بہتر ہے اسے اختیار کر لو اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کرو۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الإيمان والنذور/حدیث: 3412]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (7146. 7147) و مسلم (1652/19)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه