مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (بَيَانُ التَّعَبِ بِسَبَبِ مَنِّ النَّذْرِ)
نذر مان کر تکلیف اٹھانے کا بیان
حدیث نمبر: 3431
3431 - وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأَى شَيْخًا يُهَادَى بَيْنَ ابْنَيْهِ، فَقَالَ:"مَا بَالُ هَذَا؟"قَالُوا: نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ. قَالَ:"إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى عَنْ تَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهُ لَغَنِيٌّ". وَأَمَرَهُ أَنْ يَرْكَبَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک عمر ر شخص کو دیکھا کہ اسے اپنے دو بیٹوں کے سہارے چلایا جا رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: «مَا شَأْنُ هَذَا؟» ”اس کو کیا ہوا؟“ انہوں نے بتایا کہ اس نے پیدل چل کر بیت اللہ جانے کی نذر مانی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: «إِنَّ اللهَ لَغَنِيٌّ عَنْ تَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهُ» ”اللہ تعالیٰ اس سے بے نیاز ہے کہ یہ اپنی جان کو مشقت میں ڈالے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے سوار ہونے کا حکم فرمایا۔ (متفق علیہ)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الإيمان والنذور/حدیث: 3431]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1865) و مسلم (1642/9)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه