مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (عُقُوبَةُ القَذْفِ)
تہمت کی سزا
حدیث نمبر: 3578
3578 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي بَكْرِ بْنِ لَيْثٍ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقَرَّ أَنَّهُ زَنَى بِامْرَأَةٍ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ فَجَلَدَهُ مِائَةً وَكَانَ بِكْرًا ثُمَّ سَأَلَهُ الْبَيِّنَةَ عَلَى الْمَرْأَةِ فَقَالَتْ: كَذَبَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَجُلِدَ حَدَّ الْفِرْيَةِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بنو بکر بن لیث قبیلے کا ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے ایک عورت کے ساتھ زنا کرنے کا چار بار اقرار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے سو کوڑے مارے، کیونکہ وہ کنوارا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص سے عورت کے خلاف گواہ طلب کیے، (جب وہ اس سے عاجز آگیا) تو اس عورت نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! اس نے جھوٹ کہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر حد قذف (اسی کوڑے سزا) قائم کی۔ اسنادہ ضعیف، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الحدود/حدیث: 3578]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (4467)
٭ القاسم بن فياض مختلف فيه و ضعفه ابن معين وغيره و الجرح فيه مقدم .»
٭ القاسم بن فياض مختلف فيه و ضعفه ابن معين وغيره و الجرح فيه مقدم .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف