مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (ذِكْرُ رَدِّ مَنْصِبِ القَضَاءِ)
قضا کے عہدے کو رد کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3744
3744 - وَفِي رِوَايَةِ رَزِينٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ قَالَ لِعُثْمَانَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ! لَا أَقْضِي بَيْنَ رَجُلَيْنِ ، قَالَ: فَإِنَّ أَبَاكَ كَانَ يَقْضِي. فَقَالَ: إِنَّ أَبِي لَوْ أُشْكِلَ عَلَيْهِ شَيْءٌ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَلَوْ أُشْكِلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ لَهُ شَيْءٌ سَأَلَ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَإِنِّي لَا أَجِدُ مَنْ أَسْأَلُهُ، وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ عَاذَ بِاللَّهِ، فَقَدْ عَاذَ بِعَظِيمٍ. وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: مَنْ عَاذَ بِاللَّهِ فَأَعِيذُوهُ. وَإِنِّي أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ تَجْعَلَنِي قَاضِيًا! فَأَعْفَاهُ، قَالَ: لَا تُخْبِرْ أَحَدًا.
رزین کی نافع کی سند سے مروی روایت میں ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے عثمان رضی اللہ عنہ سے فرمایا: امیر المؤمنین! میں دو آدمیوں کے درمیان بھی فیصلہ نہیں کروں گا، انہوں نے فرمایا: آپ کے والد تو فیصلہ کیا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا: میرے والد کو کسی مسئلے میں اشکال ہوتا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھ لیا کرتے تھے، اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کسی مسئلے میں الجھن ہوتی تو وہ جبریل سے پوچھ لیتے تھے، جبکہ میں ایسا کوئی شخص نہیں پاتا جس سے میں پوچھ لوں اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے اللہ کی پناہ حاصل کی تو اس نے ایک عظیم ذات کی پناہ حاصل کی“ اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص اللہ کے واسطے سے پناہ طلب کر لے تو اسے پناہ دے دو“ اور میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں کہ تم مجھے قاضی بناؤ۔ انہوں نے اس سے درگزر کیا اور فرمایا: کسی کو نہ بتانا۔ ضعیف، رواہ رزین۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الإمارة والقضاء/حدیث: 3744]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «ضعيف، رواه رزين (لم أجده)
٭ وله شاھد عند أحمد (66/1 ح 475) و سنده ضعيف، فيه أبو سنان عيسي بن سنان القسملي ضعيف و شاھد آخر عند الترمذي (1322 ا، انظر الحديث السابق) وسنده ضعيف .»
٭ وله شاھد عند أحمد (66/1 ح 475) و سنده ضعيف، فيه أبو سنان عيسي بن سنان القسملي ضعيف و شاھد آخر عند الترمذي (1322 ا، انظر الحديث السابق) وسنده ضعيف .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف