🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

42. بَابُ مَنْ لَمْ يَرْقِ:
باب: دم جھاڑ نہ کرانے کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5752
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، فَقَالَ:" عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأُمَمُ فَجَعَلَ يَمُرُّ النَّبِيُّ مَعَهُ الرَّجُلُ، وَالنَّبِيُّ مَعَهُ الرَّجُلَانِ، وَالنَّبِيُّ مَعَهُ الرَّهْطُ، وَالنَّبِيُّ لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ، وَرَأَيْتُ سَوَادًا كَثِيرًا سَدَّ الْأُفُقَ، فَرَجَوْتُ أَنْ تَكُونَ أُمَّتِي، فَقِيلَ هَذَا مُوسَى وَقَوْمُهُ، ثُمَّ قِيلَ لِي: انْظُرْ، فَرَأَيْتُ سَوَادًا كَثِيرًا سَدَّ الْأُفُقَ، فَقِيلَ لِي انْظُرْ هَكَذَا وَهَكَذَا، فَرَأَيْتُ سَوَادًا كَثِيرًا سَدَّ الْأُفُقَ، فَقِيلَ هَؤُلَاءِ أُمَّتُكَ وَمَعَ هَؤُلَاءِ سَبْعُونَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ"، فَتَفَرَّقَ النَّاسُ وَلَمْ يُبَيَّنْ لَهُمْ، فَتَذَاكَرَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: أَمَّا نَحْنُ فَوُلِدْنَا فِي الشِّرْكِ وَلَكِنَّا آمَنَّا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَلَكِنْ هَؤُلَاءِ هُمْ أَبْنَاؤُنَا فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" هُمُ الَّذِينَ لَا يَتَطَيَّرُونَ، وَلَا يَسْتَرْقُونَ، وَلَا يَكْتَوُونَ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ"، فَقَامَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ، فَقَالَ: أَمِنْهُمْ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: نَعَمْ، فَقَامَ آخَرُ، فَقَالَ: أَمِنْهُمْ أَنَا، فَقَالَ: سَبَقَكَ بِهَا عُكَاشَةُ.
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے حصین بن نمیر نے بیان کیا، ان سے حصین بن عبدالرحمٰن نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ہمارے پاس باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ (خواب میں) مجھ پر تمام امتیں پیش کی گئیں۔ بعض نبی گزرتے اور ان کے ساتھ (ان کی اتباع کرنے والا) صرف ایک ہوتا۔ بعض گزرتے اور ان کے ساتھ دو ہوتے بعض کے ساتھ پوری جماعت ہوتی اور بعض کے ساتھ کوئی بھی نہ ہوتا پھر میں نے ایک بڑی جماعت دیکھی جس سے آسمان کا کنارہ ڈھک گیا تھا میں سمجھا کہ یہ میری ہی امت ہو گی لیکن مجھ سے کہا گیا کہ یہ موسیٰ علیہ السلام اور ان کی امت کے لوگ ہیں پھر مجھ سے کہا کہ دیکھو میں نے ایک بہت بڑی جماعت دیکھی جس نے آسمانوں کا کنارہ ڈھانپ لیا ہے۔ پھر مجھ سے کہا گیا کہ ادھر دیکھو، ادھر دیکھو، میں نے دیکھا کہ بہت سی جماعتیں ہیں جو تمام افق پر محیط تھیں۔ کہا گیا کہ یہ آپ کہ امت ہے اور اس میں سے ستر ہزار وہ لوگ ہوں گے جو بے حساب جنت میں داخل کئے جائیں گے پھر صحابہ مختلف جگہوں میں اٹھ کر چلے گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی وضاحت نہیں کی کہ یہ ستر ہزار کون لوگ ہوں گے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپس میں اس کے متعلق مذاکرہ کیا اور کہا کہ ہماری پیدائش تو شرک میں ہوئی تھی البتہ بعد میں ہم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آئے لیکن یہ ستر ہزار ہمارے بیٹے ہوں گے جو پیدائش ہی سے مسلمان ہیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ستر ہزار وہ لوگ ہوں گے جو بدفالی نہیں کرتے، نہ منتر سے جھاڑ پھونک کراتے ہیں اور نہ داغ لگاتے ہیں بلکہ اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔ یہ سن کر عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں بھی ان میں سے ہوں؟ فرمایا کہ ہاں۔ ایک دوسرے صاحب سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر عرض کیا میں بھی ان میں سے ہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عکاشہ تم سے بازی لے گئے کہ تم سے پہلے عکاشہ کے لیے جو ہونا تھا ہو چکا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 5752]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: تمام امتیں میرے سامنے پیش کی گئیں۔ بعض ایسے انبیا گزرے جن کے ساتھ صرف ایک ایک آدمی تھا اور بعض ایسے نبی بھی گزرے ہیں جن کے ساتھ دو آدمی تھے۔ کچھ انبیاء ایسے بھی تھے جن کے ساتھ ایک چھوٹی سی جماعت تھی اور کچھ ایسے بھی تھے کہ ان کے ساتھ کوئی بھی نہیں تھا۔ پھر میں نے ایک بڑی جماعت دیکھی جس نے افق کو ڈھانپ رکھا تھا، میں نے خیال کیا شاید یہ میری امت ہے، مجھے کہا گیا کہ یہ موسیٰ علیہ السلام اور ان کی امت کے لوگ ہیں۔ پھر مجھے کہا گیا: دیکھو۔ میں نے دیکھا وہاں بے شمار لوگ ہیں جن سے تمام افق بھرے پڑے تھے۔ پھر مجھ سے کہا گیا: دیکھو، ادھر دیکھو۔ میں نے دیکھا بہت سے لوگ ہیں جنہوں نے افق کو ڈھانپ رکھا ہے، مجھ سے کہا گیا: یہ لوگ آپ کی امت ہیں اور ان میں سے ستر ہزار لوگ ہوں گے جو جنت میں بغیر حساب داخل ہوں گے۔ اس کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اٹھ کر مختلف جگہوں میں چلے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس امر کی وضاحت نہیں فرمائی کہ یہ ستر ہزار کون لوگ ہوں گے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان کے بارے میں باہمی گفتگو کی اور کہا: ہماری پیدائش تو شرک میں ہوئی تھی، ہم اس کے بعد اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے، لیکن یہ ستر ہزار ہماری اولاد سے ہوں گے (جو ایمان کی حالت میں پیدا ہوئے)۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں جو بد شگونی نہیں لیتے اور نہ دم سے جھاڑ پھونک کراتے ہیں اور نہ داغ دیتے ہیں، بلکہ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔ یہ سن کر حضرت عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اللہ کے رسول! کیا میں ان لوگوں میں سے ہوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ پھر ایک دوسرے صاحب کھڑے ہوئے اور عرض کی: کیا میں بھی ان میں سے ہوں؟ آپ نے فرمایا: اس سلسلے میں عکاشہ تم سے بازی لے گیا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 5752]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں