مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (إِعْلَانُ عِتْقِ عَبِيدِ الْمُشْرِكِينَ)
مشرکین کے غلاموں کو آزاد قرار دینا
حدیث نمبر: 3975
3975 - وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ خَرَجَ عِبْدَانٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعْنِي يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةَ قَبْلَ الصُّلْحِ فَكَتَبَ إِلَيْهِ مَوَالِيهِمْ قَالُوا يَا مُحَمَّدُ وَاللَّهِ مَا خَرَجُوا إِلَيْكَ رَغْبَةً فِي دِينِكَ وَإِنَّمَا خَرَجُوا هَرَبًا مِنَ الرِّقِّ فَقَالَ نَاسٌ صَدَقُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ رُدَّهُمْ إِلَيْهِ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ مَا أُرَاكُمْ تَنْتَهُونَ يَا مَشْعَرَ قُرَيْشٍ حَتَّى يَبْعَثَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ مَنْ يَضْرِبُ رِقَابَكُمْ عَلَى هَذَا وَأَبَى أَنْ يَرُدَّهُمْ وَقَالَ هُمْ عُتَقَاءَ اللَّهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صلح حدیبیہ کے روز صلح سے پہلے کچھ غلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے تو ان کے مالکوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام خط لکھا: محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! اللہ کی قسم! یہ لوگ آپ کے دین میں رغبت رکھنے کے پیش نظر آپ کے پاس نہیں آئے، بلکہ یہ تو غلامی سے بھاگ کر آئے ہیں۔ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! انہوں نے سچ کہا ہے، آپ انہیں لوٹا دیجیے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ناراض ہو گئے اور فرمایا: ”جماعتِ قریش! میں سمجھتا ہوں کہ تم باز نہیں آؤ گے حتی کہ اللہ تم پر ایسے شخص کو بھیجے جو اس (تعصب) پر تمہاری گردنیں اڑا دے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو لوٹانے سے انکار کر دیا، اور فرمایا: ”وہ اللہ کے لیے آزاد کردہ ہیں۔“ (سندہ ضعیف، رواہ ابوداؤد) [مشكوة المصابيح/كتاب الجهاد/حدیث: 3975]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه أبو داود (2700)
٭ محمد بن إسحاق عنعن و رواه الترمذي (3715) من حديث شريک القاضي به وھو مدلس و عنعن .»
٭ محمد بن إسحاق عنعن و رواه الترمذي (3715) من حديث شريک القاضي به وھو مدلس و عنعن .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف