🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

--. (مِثَالٌ عَظِيمٌ لِلْوَفَاءِ بِالْعَهْدِ)
عہد برقرار رکھنے کی ایک عظیم مثال
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3980
3980 - وَعَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ قَالَ كَانَ بَيْنَ مُعَاوِيَةَ وَبَيْنَ الرُّومِ عَهْدٌ وَكَانَ يَسِيرُ نَحْوَ بِلَادِهِمْ حَتَّى إِذَا انْقَضَى الْعَهْدُ أَغَارَ عَلَيْهِمْ فَجَاءَ رَجُلٌ عَلَى فَرَسٍ، أَوْ بِرْذَوْنٍ وَهُوَ يَقُولُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ وَفَاءٌ لَا غَدْرٌ فَنَظَرُوا فَإِذَا هُوَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ فَسَأَلَهُ مُعَاوِيَةُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ يَقُولُ مَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَوْمٍ عَهْدٌ فَلَا يَحُلَّنَّ عَهْدًا  وَلَا يَشُدَّنَّهُ حَتَّى يُمْضِيَ أَمَدَهُ، أَوْ يَنْبِذَ إِلَيْهِمْ عَلَى سَوَاءٍ قَالَ فَرَجَعَ مُعَاوِيَةُ بِالنَّاسِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ.
سلیم بن عامر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، معاویہ رضی اللہ عنہ اور رومیوں کے درمیان عہد تھا، معاویہ رضی اللہ عنہ ان کے شہروں کی طرف سفر جاری رکھتے حتیٰ کہ جب مدتِ معاہدہ پوری ہو جاتی تو آپ ان پر حملہ کر دیتے، ایک آدمی گھوڑے یا ترکی گھوڑے پر یہ کہتا ہوا آیا: «اَللّٰهُ أَكْبَرُ، اَللّٰهُ أَكْبَرُ، وَفَاءٌ لَا غَدْرَ» ”اللہ اکبر، اللہ اکبر، وفا کرو، عہد شکنی نہ کرو“، لشکرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا تو وہ عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ تھے، معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں ان سے سوال کیا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس شخص کا کسی قوم سے کوئی عہد ہو تو وہ عہد کو توڑے نہ اسے منعقد کرے (کوئی تبدیلی یا تجدید نہ کرے) حتیٰ کہ اس کی مدت گزر جائے یا وہ برابری کی سطح پر ان کی طرف معاہدہ توڑنے کا پیغام بھیج دے۔“ چنانچہ معاویہ رضی اللہ عنہ لوگوں کو لے کر واپس آگئے۔ اسنادہ صحیح، رواہ الترمذی و ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجهاد/حدیث: 3980]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه الترمذي (1580 و قال: حسن صحيح) و أبو داود (2759)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں