مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (بَيَانُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَوْلَ مَالِ الْفَيْءِ)
مال فئ کے بارے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا بیان
حدیث نمبر: 4060
4060 - وَعَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ ذَكَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمًا الْفَيْءَ فَقَالَ مَا أَنَا أَحَقُّ بِهَذَا الْفَيْءِ مِنْكُمْ، وَمَا أَحَدٌ مِنَّا بِأَحَقَّ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا أَنَّا عَلَى مَنَازِلِنَا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَقَسْمِ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَالرَّجُلُ وَقِدَمُهُ، وَالرَّجُلُ وَبَلَاؤُهُ، وَالرَّجُلُ وَعِيَالُهُ ، وَالرَّجُلُ وَحَاجَتُهُ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
مالک بن اوس بن حدثان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک روز مالِ فے کا ذکر کیا تو فرمایا: میں اس مالِ فے کا تم سے زیادہ حقدار نہیں ہوں اور نہ ہم میں سے کوئی اور اس کا زیادہ حقدار ہے، ہم اللہ عزوجل کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تقسیم کے مطابق اپنے مراتب پر ہیں، کوئی آدمی اپنے قبولِ اسلام میں سبقت رکھنے والا ہے، کوئی اپنی شجاعت والا ہے، کوئی آدمی عیال دار ہے اور کوئی آدمی ضرورت مند ہے۔ اسنادہ ضعیف، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجهاد/حدیث: 4060]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (2950)
٭ فيه محمد بن إسحاق مدلس و عنعن .»
٭ فيه محمد بن إسحاق مدلس و عنعن .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف