مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (قَرَارُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بِإِرْجَاعِ أَرَاضِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
حضرت عمر بن عبدالعزیز کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زمینیں واپس کرنے کا فیصلہ
حدیث نمبر: 4063
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 4063 - عَنِ الْمُغِيرَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ جَمَعَ بَنِي مَرْوَانَ حِينَ اسْتُخْلِفَ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ لَهُ فَدَكُ ، فَكَانَ يُنْفِقُ مِنْهَا، وَيَعُودُ مِنْهَا عَلَى صَغِيرِ بَنِي هَاشِمٍ، وَيُزَوِّجُ مِنْهَا أَيِّمَهُمْ، وَإِنَّ فَاطِمَةَ سَأَلَتْهُ أَنْ يَجْعَلَهَا لَهَا فَأَبَى فَكَانَتْ كَذَلِكَ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ فَلَمَّا (أَنْ) وُلِّيَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَمِلَ فِيهَا بِمَا عَمِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَيَاتِهِ حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ فَلَمَّا أَنْ وُلِّيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَمِلَ فِيهَا بِمِثْلِ مَا عَمِلَا حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ، ثُمَّ اقْتَطَعَهَا مَرْوَانُ، ثُمَّ صَارَتْ لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، فَرَأَيْتُ أَمْرًا مَنَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا لَيْسَ لِي بِحَقٍّ، وَإِنِّي أُشْهِدُكُمْ أَنِّي رَدَدْتُهَا عَلَى مَا كَانَتْ. يَعْنِي: عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
مغیرہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ جب خلیفہ بنائے گئے تو انہوں نے بنو مروان کو جمع کیا اور فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے فدک مخصوص تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس میں سے (اپنے اہل خانہ پر) خرچ کرتے، بنو ہاشم کے چھوٹوں پر خرچ کرتے اور اسی میں سے ان کے غیر شادی شدہ افراد کی شادی کیا کرتے تھے، فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے درخواست کی کہ فدک آپ انہیں عطا فرما دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انکار فرمایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں معاملہ اسی طرح رہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد جب ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنائے گئے تو انہوں نے بھی ویسے ہی کیا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی حیاتِ مبارکہ میں کیا تھا، حتیٰ کہ وہ بھی اللہ کو پیارے ہو گئے، جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ خلیفہ بنائے گئے تو انہوں نے بھی ویسے ہی کیا جیسے ان دونوں حضرات نے کیا تھا، حتیٰ کہ وہ بھی اللہ کو پیارے ہو گئے، پھر مروان نے اسے جاگیر بنا لیا، پھر وہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے لیے ہو گئی، میں نے دیکھا کہ یہ وہ مال ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو نہیں دیا، لہذا اسے لینے کا مجھے بھی کوئی حق نہیں، میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اسے اسی جگہ لوٹا دیا ہے جہاں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے دور میں تھا۔“ اسنادہ ضعیف، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجهاد/حدیث: 4063]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (2972)
٭ فيه مغيرة بن مقسم مدلس و عنعن و السند منقطع .»
٭ فيه مغيرة بن مقسم مدلس و عنعن و السند منقطع .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف