صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
57. بَابُ أَلْبَانِ الأُتُنِ:
باب: گدھی کا دودھ پینا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 5780
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:" نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السَّبُعِ"، قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَلَمْ أَسْمَعْهُ حَتَّى أَتَيْتُ الشَّأْمَ
مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے ابوادریس خولانی نے اور ان سے ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر دانت سے کھانے والے درندہ جانور (کے گوشت) سے منع فرمایا۔ زہری نے بیان کیا کہ میں نے یہ حدیث اس وقت تک نہیں سنی جب تک شام نہیں آیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 5780]
حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ہر کچلی والے درندے جانور کو کھانے سے منع فرمایا ہے۔“ امام زہری رحمہ اللہ نے کہا: ”میں اس حدیث کو اس وقت تک نہیں سن سکا جب تک میں شام نہیں آیا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 5780]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5781
وَزَادَ اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: وَسَأَلْتُهُ هَلْ نَتَوَضَّأُ أَوْ نَشْرَبُ أَلْبَانَ الْأُتُنِ، أَوْ مَرَارَةَ السَّبُعِ، أَوْ أَبْوَالَ الْإِبِلِ؟، قَالَ: قَدْ كَانَ الْمُسْلِمُونَ يَتَدَاوَوْنَ بِهَا فَلَا يَرَوْنَ بِذَلِكَ بَأْسًا، فَأَمَّا أَلْبَانُ الْأُتُنِ، فَقَدْ بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُحُومِهَا وَلَمْ يَبْلُغْنَا عَنْ أَلْبَانِهَا، أَمْرٌ وَلَا نَهْيٌ، وَأَمَّا مَرَارَةُ السَّبُعِ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ، أَنَّ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السَّبُعِ.
اور لیث نے زیادہ کیا ہے کہا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب زہری نے کہ میں نے ابوادریس سے پوچھا کیا ہم (دوا کے طور پر) گدھی کے دودھ سے وضو کر سکتے ہیں یا اسے پی سکتے ہیں یا درندہ جانوروں کے پتِے استعمال کر سکتے ہیں یا اونٹ کا پیشاب پی سکتے ہیں۔ ابوادریس نے کہا کہ مسلمان اونٹ کے پیشاب کو دوا کے طور پر استعمال کرتے تھے اور اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ البتہ گدھی کے دودھ کے بارے میں ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث پہنچی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے گوشت سے منع فرمایا تھا۔ اس کے دودھ کے متعلق ہمیں کوئی حکم یا ممانعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم نہیں ہے۔ البتہ درندوں کے پتِے کے متعلق جو ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھے ابوادریس خولانی نے خبر دی اور انہیں ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر دانت والے شکاری درندے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 5781]
ابن شہاب زہری رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ”میں نے ابو ادریس خولانی رحمہ اللہ سے پوچھا: کیا ہم گدھی کے دودھ سے وضو کر سکتے ہیں یا درندے جانور کا پتا استعمال کر سکتے ہیں یا اونٹ کا پیشاب پی سکتے ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”مسلمان اونٹ کے پیشاب کو بطور دوا استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ گدھی کے دودھ کے متعلق ہمیں یہ حدیث پہنچتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا تھا، البتہ اس کے دودھ کے متعلق ہمیں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا) کوئی حکم یا ممانعت معلوم نہیں۔“ ہاں، درندوں کے پتے کے متعلق مجھے ابو ادریس خولانی رحمہ اللہ نے بتایا اور انہیں ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ہر کچلی والے درندے کو کھانے سے منع فرمایا ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 5781]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة