🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

--. (مَا هِيَ الصَّيْدُ الَّتِي يُمْكِنُ أَكْلُهَا؟)
کون سے شکار کھائے جا سکتے ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4089
4089 - وَعَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ  ، وَعَنْ كُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ، وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ، وَعَنِ الْمُجَثَّمَةِ، وَعَنِ الْخَلِيسَةِ، وَأَنْ تُوطَأَ الْحَبَالَى حَتَّى يَضَعْنَ مَا فِي بُطُونِهِنَّ. قَالَ: مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى: سُئِلَ أَبُو عَاصِمٍ عَنِ الْمُجَثَّمَةِ، فَقَالَ: أَنْ يُنْصَبَ الطَّيْرُ، أَوِ الشَّيْءُ فَيُرْمَى وَسُئِلَ عَنِ الْخَلِيسَةِ، فَقَالَ: الذِّئْبُ، أَوِ السَّبُعُ يُدْرِكُهُ الرَّجُلُ فَيَأْخُذُ مِنْهُ، فَيَمُوتُ فِي يَدِهِ قَبْلَ أَنْ يُذَكِّيهَا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خیبر کے روز ”درندوں میں سے ہر کچلی (سے شکار کرنے) والے اور پرندوں میں سے ہر پنجے (سے شکار کرنے) والے، پالتو گدھے کے گوشت، «الْمُجَثَّمَةِ» ”باندھ کر تیر اندازی کیے جانے والے“ اور «الْخَلِيسَةِ» ”خلیسہ“ کے کھانے سے اور جنگ میں گرفتار ہونے والی حاملہ عورت سے وضع حمل سے پہلے جماع کرنے سے“ منع فرمایا۔ محمد بن یحییٰ بیان کرتے ہیں، ابو عاصم سے «الْمُجَثَّمَةِ» ”مجثمہ“ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: کسی پرندے یا کسی چیز کو باندھ کر اس پر تیر اندازی کی جائے، اور ان سے «الْخَلِيسَةِ» ”خلیسہ“ کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: کوئی شخص بھیڑیے یا درندے سے اس کا شکار چھڑائے اور وہ اسے ذبح کرنے سے قبل اس کے ہاتھ میں مر جائے۔ اسنادہ ضعیف، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4089]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (1474)
٭ أم حبيبة: لم أجد من وثقھا و للحديث شواھد کثيرة دون: ’’الخليسة‘‘ .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں