🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

--. (قَتْلُ الْكَلْبِ الْأَسْوَدِ)
کالا کتا مار دیا جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4100
4100 - وَعَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِقَتْلِ الْكِلَابِ  ، حَتَّى إِنَّ الْمَرْأَةَ تَقْدَمُ مِنَ الْبَادِيَةِ بِكَلْبِهَا فَنَقْتُلُهُ، ثُمَّ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ قَتْلِهَا، وَقَالَ:"عَلَيْكُمْ بِالْأَسْوَدِ الْبَهِيمِ ذِي النُّقْطَتَيْنِ فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں کتے مارنے کا حکم فرمایا، یہاں تک کہ کوئی عورت جنگل سے اپنے کتے کے ساتھ آتی تو ہم اس (کتے) کو بھی قتل کر دیتے تھے، پھر رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے مارنے سے منع فرما دیا اور ارشاد فرمایا: ”تم دو نقطوں والے سیاہ کتے کو قتل کرو کیونکہ وہ شیطان ہے۔“ (رواہ مسلم) [مشكوة المصابيح/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4100]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (1572/47)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں