مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (مَنْعُ عَدَمِ قَتْلِ الْحَيَّةِ خَوْفًا مِنَ الِانْتِقَامِ)
بدلہ لینے کے ڈر سے سانپ کو نہ مارنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 4138
4138 - وَعَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا رَفَعَ الْحَدِيثَ: أَنَّهُ كَانَ يَأْمُرُ بِقَتْلِ الْحَيَّاتِ ، وَقَالَ: مَنْ تَرَكَهُنَّ خَشْيَةَ ثَائِرٍ فَلَيْسَ مِنَّا. رَوَاهُ فِي"شَرْحِ السُّنَّةِ
عکرمہ، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں، عکرمہ نے کہا: میں جانتا ہوں کہ انہوں نے اسے مرفوع بیان کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سانپوں کو مارنے کا حکم فرمایا کرتے تھے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے سانپ کے انتقام کے خوف سے انہیں چھوڑ دیا تو وہ ہم میں سے نہیں۔“ (سندہ ضعیف، رواہ فی شرح السنہ)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4138]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه البغوي في شرح السنة (195/12 ح 3265) [و عبد الرزاق (19617) و أبو داود (5250) ]
٭ موسي بن مسلم الطحان شک في وصل الحديث فالحديث معلول .»
٭ موسي بن مسلم الطحان شک في وصل الحديث فالحديث معلول .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف