مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (كَانَتِ الثِّيَابُ الْقُطْرِيَّةُ ثَقِيلَةً عَلَى الْبَدَنِ)
قطری کپڑے بدن پر بھاری تھے
حدیث نمبر: 4361
4361 - وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: كَانَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَوْبَانِ قِطْرِيَّانِ غَلِيظَانِ ، وَكَانَ إِذَا قَعَدَ فَعَرِقَ ثَقُلَا عَلَيْهِ، فَقَدِمَ بَزٌّ مِنَ الشَّامِ لِفُلَانٍ الْيَهُودِيِّ. فَقُلْتُ: لَوْ بَعَثْتَ إِلَيْهِ فَاشْتَرَيْتَ مِنْهُ ثَوْبَيْنِ إِلَى الْمَيْسَرَةِ. فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: قَدْ عَلِمْتُ مَا تُرِيدُ، إِنَّمَا تُرِيدُ أَنْ تَذْهَبَ بِمَالِي. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَذَبَ، قَدْ عَلِمَ أَنِّي مِنْ أَتْقَاهُمْ وَآدَاهُمْ لِلْأَمَانَةِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَالنَّسَائِيُّ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر دو یمنی موٹے کپڑے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (دیر تک) بیٹھتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پسینہ آ جاتا اور وہ کپڑے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ثقیل ہو جاتے، فلاں یہودی کا ملک شام سے کپڑا آیا تو میں نے عرض کیا: اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پاس کسی آدمی کو بھیج کر خوشحالی کے وعدے تک اس سے دو کپڑے خرید لیں (تو بہتر ہے)، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی طرف آدمی بھیجا تو اس نے کہا: مجھے پتہ ہے کہ تم کیا چاہتے ہو، تم تو میرا مال ہتھیانا چاہتے ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جھوٹا ہے، حالانکہ اسے پتہ ہے کہ میں ان سب سے زیادہ متقی اور ان سب سے زیادہ بروقت ادائیگی کرنے والا ہوں۔“ اسنادہ صحیح، رواہ الترمذی والنسائی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب اللباس/حدیث: 4361]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه الترمذي (1213 وقال: حسن صحيح غريب) و النسائي (294/7 ح 4632)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح