مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (حَلْقُ كُلِّ شَعْرِ ٱلرَّأْسِ)
سر کا سارے بال مونڈھنا
حدیث نمبر: 4463
4463 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمْهَلَ آلَ جَعْفَرٍ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَتَاهُمْ، فَقَالَ:"لَا تَبْكُوا عَلَى أَخِي بَعْدِ الْيَوْمِ". ثُمَّ قَالَ:"ادْعُوا لِي بَنِي أَخِي"فَجِيءَ بِنَا كَأَنَّا أَفْرُخٌ. فَقَالَ:"ادْعُوا لِي الْحَلَّاقَ"فَأَمَرَهُ فَحَلَقَ رُءُوسَنَا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَالنَّسَائِيُّ.
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آلِ جعفر کو تین روز تک حالتِ غم میں رہنے دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے تو فرمایا: ”آج کے بعد میرے بھائی پر مت رونا۔“ پھر فرمایا: ”میرے بھتیجوں کو بلاؤ۔“ ہمیں لایا گیا گویا ہم چوزے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”حجام کو میرے پاس لاؤ۔“ آپ نے اسے حکم فرمایا تو اس نے ہمارے سر مونڈ دیے۔ اسنادہ صحیح، رواہ ابوداؤد والنسائی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب اللباس/حدیث: 4463]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه أبو داود (4192) و النسائي (182/8 ح 5229)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح