🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

--. (بَابٌ)
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لانے سے گریز
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4471
4471 - وَعَنْ ثَوْبَانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا سَافَرَ، كَانَ آخِرُ عَهْدِهِ بِإِنْسَانٍ مِنْ أَهْلِهِ فَاطِمَةَ  ، وَأَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ عَلَيْهَا فَاطِمَةَ، فَقَدِمَ مِنْ غَزَاةٍ وَقَدْ عَلَّقَتْ مَسْحًا أَوْ سِتْرًا عَلَى بَابِهَا، وَحَلَّتِ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ قُلْبَيْنِ مِنْ فِضَّةٍ، فَقَدِمَ فَلَمْ يَدْخُلْ، فَظَنَّتْ أَنَّ مَا مَنَعَهُ أَنْ يَدْخُلَ مَا رَأَى، فَهَتَكَتِ السِّتْرَ، وَفَكَّتِ الْقُلْبَيْنِ عَنِ الصَّبِيَّيْنِ، وَقَطَعَتْهُ مِنْهُمَا، فَانْطَلَقَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَبْكِيَانِ، فَأَخَذَهُ مِنْهُمَا فَقَالَ:"يَاثَوْبَانُ! اذْهَبْ بِهَذَا إِلَى فُلَانٍ، إِنَّ هَؤُلَاءِ أَهْلِي أَكْرَهُ أَنْ يَأْكُلُوا طَيِّبَاتِهِمْ فِي حَيَاتِهِمُ الدُّنْيَا. يَا ثَوْبَانُ! اشْتَرِ لِفَاطِمَةَ قِلَادَةً مِنْ عَصْبٍ، وَسُوَارَيْنِ مِنْ عَاجٍ". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو دَاوُدَ.
ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سفر پر جاتے تو آپ اپنے اہل خانہ میں سے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے سب سے آخر میں ملتے اور جب آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سفر سے واپس تشریف لاتے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سب سے پہلے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ملتے۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک غزوہ سے واپس تشریف لائے تو انہوں نے اپنے دروازے پر پردہ لٹکا رکھا تھا اور حسن و حسین رضی اللہ عنہما کو چاندی کے کنگن پہنا رکھے تھے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب تشریف لائے تو فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل نہ ہوئے، جس سے انہوں نے سمجھ لیا کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے تشریف نہ لانے کا سبب پردہ اور کنگن ہیں، انہوں نے پردہ پھاڑ ڈالا اور بچوں کے ہاتھوں سے کنگن اتار دیے اور ان کے ٹکڑے کر دیے، وہ دونوں روتے ہوئے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف چل دیے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان دونوں سے وہ کنگن لے لیے اور فرمایا: ”ثوبان! اسے آلِ فلاں کے پاس لے جاؤ، کیونکہ یہ میرے اہل سے ہیں، میں ناپسند کرتا ہوں کہ وہ اپنی دنیا کی زندگانی میں نفیس چیزیں استعمال کریں، ثوبان! فاطمہ کے لیے عصب (دریائی جانور کے دانت) کا ہار اور ہاتھی کے دانت کے دو کنگن خرید لاؤ۔“ اس کی سند ضعیف ہے، اسے امام احمد اور ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب اللباس/حدیث: 4471]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أحمد (275/5 ح 22721) و أبو داود (4213)
٭ سليمان المنبھي و حميد الشامي: مجھولان .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں