🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

--. (التَّعْوِيذُ وَالْجَنْدَلُ شِرْكٌ)
تعویذ گنڈا شرک ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4552
4552 - وَعَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَأَى فِي عُنُقِي خَيْطًا، فَقَالَ: مَا هَذَا؟ فَقُلْتُ: خَيْطٌ رُقِيَ لِي فِيهِ قَالَتْ: فَأَخَذَهُ فَقَطَعَهُ، ثُمَّ قَالَ: أَنْتُمْ آلَ عَبْدَ اللَّهِ لَأَغْنِيَاءٌ عَنِ الشِّرْكِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:"إِنَّ الرُّقَى وَالتَّمَائِمَ وَالتِّوَلَةَ شِرْكٌ"فَقُلْتُ: لِمَ تَقُولُ هَكَذَا؟ لَقَدْ كَانَتْ عَيْنِي تُقْذَفُ، وَكُنْتُ أَخْتَلِفُ إِلَى فُلَانٍ الْيَهُودِيِّ، فَإِذَا رَقَاهَا سَكَنَتْ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: إِنَّمَا ذَلِكِ عَمَلُ الشَّيْطَانِ، كَانَ يَنْخَسُهَا بِيَدِهِ، فَإِذَا رُقِيَ كُفَّ عَنْهَا، إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكِ أَنْ تَقُولِي كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:"اذْهِبِ الْبَأْسَ، رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءٌ لَا يُغَادِرُ سَقَمًا". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اہلیہ زینب رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے میری گردن میں ایک دھاگہ دیکھا تو پوچھا: یہ کیا ہے؟ میں نے کہا: میرے لیے دم کیا ہوا دھاگہ ہے، انہوں نے اسے پکڑ کر کاٹ دیا، پھر فرمایا: تم آلِ عبداللہ شرک سے بے نیاز ہو، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”بے شک دم، تعویذ اور جادو شرک ہے۔“ میں نے کہا: آپ اس طرح کیوں کہتے ہیں؟ میری آنکھ میں شدید درد تھا میں فلاں یہودی کے پاس جاتی تھی، جب وہ دم کرتا تو درد رک جاتا تھا، (یہ سن کر) عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ محض شیطان کا عمل ہے، وہ اپنا ہاتھ آنکھ پر مارتا ہے، جب دم کیا جاتا ہے تو وہ ہاتھ مارنا چھوڑ دیتا ہے، تمہارے لیے اتنا کہنا ہی کافی تھا جیسے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمایا کرتے تھے: «أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا» ”لوگوں کے رب! بیماری لے جا، اور شفا عطا فرما، تو ہی شفا عطا کرنے والا ہے، شفا صرف تیری ہی ہے، ایسی شفا عطا کر کہ وہ کوئی بیماری نہ چھوڑے۔“ اسنادہ ضعیف، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطب والرقى/حدیث: 4552]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (3883) [و ابن ماجه (3530) ]
٭ سليمان الأعمش مدلس و عنعن و للحديث شواھد ضعيفة و أخرج الحاکم (217/4 ح 7505، اتحاف المھرة 453/10ح 13163) عن قيس بن السکن الأسدي قال: ’’دخل عبد الله بن مسعود رضي الله عنه علي امرأة فرأي عليھا حرزًا من الحمرة فقطعه قطعًا عنيفًا ثم قال: إن آل عبد الله عن الشرک أغنياء و قال: کان مما حفظنا عن النبي ﷺ أن الرقي و التمائم والتولة من الشرک‘‘ و صححه ووافقه الذهبي، ابن موسي ھو عبيد الله و السند صحيح .»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں