مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (لَا مَوْتَ وَلَا حَيَاةَ وَلَا رِزْقَ فِي النُّجُومِ)
ستارے میں کسی کی موت، زندگی اور رزق نہیں
حدیث نمبر: 4603
4603 - وَعَنِ الرَّبِيعِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - مِثْلُهُ، وَزَادَ: وَاللَّهِ مَا جَعَلَ اللَّهُ فِي نَجْمٍ حَيَاةَ أَحَدٍ، وَلَا رِزْقَهُ، وَلَا مَوْتَهُ ، وَإِنَّمَا يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ وَيَتَعَلَّلُونَ بِالنُّجُومِ.
ربیع رحمہ اللہ سے بھی اسی طرح مروی ہے، نیز انہوں نے یہ اضافہ نقل کیا ہے: اللہ کی قسم! اللہ نے کسی ستارے میں نہ تو کسی کی زندگی رکھی ہے اور نہ اس کا رزق رکھا ہے اور نہ اس کی موت رکھی ہے، وہ تو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں اور ستاروں کا فقط بہانہ بناتے ہیں۔ «لَمْ أَجِدْهُ، رَوَاهُ رَزِينٌ» ”میں نے اسے نہیں پایا، اسے رزین نے روایت کیا ہے۔“ [مشكوة المصابيح/كتاب الطب والرقى/حدیث: 4603]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «لم أجده، رواه رزين (لم أجده)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:لم أجده