مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (حُقُوقُ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ)
مسلمان کے مسلمان پر حقوق
حدیث نمبر: 4630
4630 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لِلْمُؤْمِنِ عَلَى الْمُؤْمِنِ سِتُّ خِصَالٍ : يَعُودُهُ إِذَا مَرِضَ، وَيَشْهَدُهُ إِذَا مَاتَ، وَيُجِيبُهُ إِذَا دَعَاهُ، وَيُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِذَا لَقِيَهُ، وَيُشَمِّتُهُ إِذَا عَطَسَ، وَيَنْصَحُ لَهُ إِذَا غَابَ أَوْ شَهِدَ"لَمْ أَجِدْهُ فِي"الصَّحِيحَيْنِ"، وَلَا فِي كِتَابِ الْحُمَيْدِيِّ، وَلَكِنْ ذَكَرَهُ صَاحِبُ"الْجَامِعِ"بِرِوَايَةِ النَّسَائِيِّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کے مومن پر چھ حق ہیں: جب وہ بیمار ہو جائے تو اس کی عیادت کرے، جب وہ فوت ہو جائے تو اس کے جنازے میں شریک ہو، جب وہ دعوت دے تو اسے قبول کرے، جب وہ اس سے ملاقات کرے تو اسے سلام کرے، جب اسے چھینک آئے (اور «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”اللہ کے لیے تمام تعریفیں ہیں“ کہے) تو وہ اسے «يَرْحَمُكَ اللّٰهُ» ”اللہ تجھ پر رحم فرمائے“ کہہ کر جواب دے، اور اس کی موجودگی اور غیر موجودگی میں اس سے خیر خواہی کرے۔“ اس کی سند حسن ہے، اسے نسائی اور ترمذی نے روایت کیا ہے۔ صاحبِ مشکوۃ کہتے ہیں: اور میں نے اسے نہ تو صحیحین میں پایا ہے نہ کتابِ حمیدی میں، لیکن جامع الاصول کے مؤلف (ابنِ اثیر) نے اسے نسائی کی روایت سے ذکر کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4630]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه النسائي (53/4 ح 1940) [والترمذي (2737) وقال ھذا حديث صحيح] »
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن