مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (تَعَلُّقُ الْأَنْصَارِيِّ بِالْمَحَبَّةِ)
انصاری کا محبت سے چمٹنا
حدیث نمبر: 4685
4685 - وَعَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ - قَالَ: بَيْنَمَا هُوَ يُحَدِّثُ الْقَوْمَ - وَكَانَ فِيهِ مُزَاحٌ - بَيْنَا يُضْحِكُهُمْ فَطَعَنَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي خَاصِرَتِهِ بِعُودٍ، فَقَالَ: أَصْبِرْنِي. قَالَ:"أَصْطَبِرُ"قَالَ: إِنَّ عَلَيْكَ قَمِيصًا وَلَيْسَ عَلَيَّ قَمِيصٌ، فَرَفَعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ قَمِيصِهِ، فَاحْتَضَنَهُ وَجَعَلَ يُقَبِّلُ كَشْحَهُ ، قَالَ: إِنَّمَا أَرَدْتُ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کا تعلق انصار کے ایک قبیلے سے تھا، وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن وہ لوگوں سے باتیں کر رہے تھے اور وہ مزاحیہ طبیعت کے تھے اور وہ انہیں (اپنی باتوں کے ذریعے) ہنسا رہے تھے، تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک لکڑی سے ان کے پہلو پر چوب لگائی، انہوں نے کہا: مجھے بدلہ دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میں بدلہ دیتا ہوں۔“ انہوں نے عرض کیا: آپ پر تو قمیص ہے جبکہ مجھ پر قمیص نہیں تھی، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قمیص مبارک اٹھائی تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے چمٹ گیا اور آپ کے پہلو مبارک کو بوسہ دینے لگا، اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں تو بس یہی چاہتا تھا۔ (صحیح، رواہ ابوداؤد) [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4685]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه أبو داود (5224)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح