مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (آدَابُ الْعُطَاسِ وَالتَّثَاؤُبِ)
چھینکنے اور جمائی کے آداب
حدیث نمبر: 4732
(6) بَابُ الْعُطَاسِ وَالتَّثَاؤُبِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 4732 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعُطَاسَ وَيَكْرَهُ التَّثَاؤُبَ ، فَإِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ وَحَمِدَ اللَّهَ كَانَ حَقًّا عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ سَمِعَهُ أَنْ يَقُولَ لَهُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ. فَأَمَّا التَّثَاؤُبُ فَإِنَّمَا هُوَ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَإِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَرُدَّهُ مَا اسْتَطَاعَ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا تَثَاءَبَ ضَحِكَ مِنْهُ الشَّيْطَانُ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ:"فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَالَ: هَا، ضَحِكَ الشَّيْطَانُ مِنْهُ"
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ چھینکنے کو پسند فرماتا ہے اور جمائی لینے کو ناپسند فرماتا ہے۔ جب تم میں سے کوئی چھینک مارے اور «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں“ کہے، تو اسے سننے والے ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اسے «يَرْحَمُكَ اللّٰهُ» ”اللہ تم پر رحم فرمائے“ کہے۔ رہی جمائی تو وہ شیطان کی طرف سے ہے، جب تم میں سے کوئی جمائی لیتا ہے تو وہ اسے روکنے کی مقدور بھر کوشش کرے، کیونکہ جب تم میں سے کوئی جمائی لیتا ہے تو شیطان اس سے ہنستا ہے۔“ بخاری۔ اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے: ”کیونکہ تم میں سے کوئی ایک (جمائی کے وقت) آواز نکالتا ہے تو شیطان اس سے ہنستا ہے۔“ اسے بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4732]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (6226، الرواية الأولي، 6223 والرواية الثانية) ومسلم (2994/56 الرواية الثانية)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:رواه البخاري (6226)