مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (مَنْعُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَدْحِ نَفْسِهِ أَيْضًا)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی تعریف سے بھی منع فرما دینا
حدیث نمبر: 4900
4900 - وَعَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ أَبِي: انْطَلَقْتُ فِي وَفْدِ بَنِي عَامِرٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْنَا: أَنْتَ سَيِّدُنَا، فَقَالَ:"السَّيِّدُ اللَّهُ"فَقُلْنَا وَأَفْضَلُنَا فَضْلًا، وَأَعْظَمُنَا طَوْلًا. فَقَالَ:"قُولُوا قَوْلَكُمْ، أَوْ بَعْضَ قَوْلِكُمْ، وَلَا يَسْتَجْرِيَنَّكُمُ الشَّيْطَانُ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ.
مطرف بن عبداللہ بن شخیر رحمہ اللہ سے روایت ہے، وہ (اپنے والد رضی اللہ عنہ سے) بیان کرتے ہیں، میں بنو عامر کے وفد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو ہم نے عرض کیا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے سید ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”سید تو اللہ ہے۔“ پھر ہم نے عرض کیا: آپ فضیلت میں ہم سے افضل ہیں اور ہم سے عظیم تر ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو کہہ رہے ہو وہ کہو یا اپنی بات کا کچھ حصہ کہو اور شیطان تمہیں (باتیں بنانے پر) دلیر نہ بنا دے۔“ اسنادہ صحیح، رواہ احمد وابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4900]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه أحمد (25/4ح 16420) و أبو داود (4806)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح