مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (مَنْ هُوَ أَحَقُّ النَّاسِ بِحُسْنِ المُعَامَلَةِ؟)
سب سے زیادہ حسن سلوک کا حق دار کون؟
حدیث نمبر: 4911
(14) بَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 4911 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَحَقُّ بِحُسْنِ صَحَابَتِي؟ قَالَ:"أُمُّكَ"قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ:"أُمُّكَ". قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ:"أُمُّكَ"قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ:"أَبُوكَ". وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ:"أُمَّكَ، ثُمَّ أُمَّكَ، ثُمَّ أُمَّكَ، ثُمَّ أَبَاكَ، ثُمَّ أَدْنَاكَ أَدْنَاكَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، کسی آدمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تیری والدہ۔“ اس نے عرض کیا: پھر کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تیری ماں۔“ اس نے عرض کیا: پھر کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تیری ماں۔“ اس نے عرض کیا: پھر کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا باپ۔“ ایک دوسری روایت میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تیری ماں، پھر تیری ماں، پھر تیری ماں، پھر تیرا باپ، پھر تیرا قریبی رشتہ دار، پھر اس سے کم قریبی رشتہ دار۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4911]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5971) و مسلم (4، 2548/1)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه