مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (مَنْ يَنَالُ ٱلْحَسَنَةَ عِنْدَ كُلِّ شَعْرَةٍ)
ہر بال کے بدلے نیکی پالنے والا
حدیث نمبر: 4974
4974 - وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَنْ مَسَحَ رَأْسَ يَتِيمٍ لَمْ يَمْسَحْهُ إِلَّا لِلَّهِ، كَانَ لَهُ بِكُلِّ شَعْرَةٍ تَمُرُّ عَلَيْهَا يَدُهُ حَسَنَاتٌ ، وَمَنْ أَحْسَنَ إِلَى يَتِيمَةٍ أَوْ يَتِيمٍ عِنْدَهُ كُنْتُ أَنَا وَهُوَ فِي الْجَنَّةِ كَهَاتَيْنِ"وَقَرَنَ بَيْنَ أُصْبُعَيْهِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالتِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ کی رضا کی خاطر کسی یتیم کے سر پر (شفقت سے) ہاتھ پھیرتا ہے تو اس کے ہاتھ کے نیچے آنے والے ہر بال کے بدلے میں اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور جو شخص اپنے زیر کفالت کسی یتیم بچی یا بچے کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہے تو وہ اور میں جنت میں اس طرح ہوں گے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی دونوں انگلیاں ملائیں۔ احمد، ترمذی، اور فرمایا: یہ حدیث غریب ہے۔ «إِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ جِدًّا، رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ» ”اس کی سند بہت ضعیف ہے، اسے احمد اور ترمذی نے روایت کیا ہے“۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4974]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف جدًا، رواه أحمد (250/5، 265 ح 22640) والترمذي (لم أجده) [و البغوي في شرح السنة (44/13 ح 3456) من طريق ابن المبارک به وھو في الزھد لابن المبارک (655) ] »
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف جدًا