صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
102. بَابُ إِرْدَافِ الْمَرْأَةِ خَلْفَ الرَّجُلِ:
باب: جانور پر عورت کا مرد کے پیچھے بیٹھنا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 5968
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَبَّاحٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَيْبَرَ وَإِنِّي لَرَدِيفُ أَبِي طَلْحَةَ وَهُوَ يَسِيرُ، وَبَعْضُ نِسَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَدِيفُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ عَثَرَتِ النَّاقَةُ، فَقُلْتُ: الْمَرْأَةَ، فَنَزَلْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهَا أُمُّكُمْ، فَشَدَدْتُ الرَّحْلَ وَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا دَنَا أَوْ رَأَى الْمَدِينَةَ قَالَ: آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ".
ہم سے حسن بن محمد بن صباح نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن عباد نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہیں یحییٰ بن ابی اسحاق نے خبر دی، کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر سے واپس آ رہے تھے اور میں ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی سواری پر آپ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا اور چل رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض بیوی صفیہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر آپ کے پیچھے تھیں کہ اچانک اونٹنی نے ٹھوکر کھائی، میں نے کہا عورت کی خبرگیری کرو پھر میں اتر پڑا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تمہاری ماں ہیں پھر میں نے کجاوہ مضبوط باندھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو گئے پھر جب مدینہ منورہ کے قریب ہوئے یا (راوی نے بیان کیا کہ) مدینہ منورہ دیکھا تو فرمایا ”ہم واپس ہونے والے ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہونے والے ہیں، اسی کو پوجنے والے ہیں، اپنے مالک کی تعریف کرنے والے ہیں۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 5968]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ خیبر سے واپس آ رہے تھے۔ میں حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کی سواری پر ان کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سفر جاری رکھے ہوئے تھے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ آپ کی بیوی پیچھے بیٹھی ہوئی تھیں۔ اس دوران میں اونٹنی نے ٹھوکر کھائی۔ میں نے کہا: ”عورت کی خبر گیری کرو۔“ میں سواری سے اترا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تمہاری ماں ہیں۔“ چنانچہ میں نے کجاوہ مضبوط کر کے باندھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ سوار ہو گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ کے قریب آئے اور اسے دیکھا تو فرمایا: «آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ» ”ہم واپس آنے والے ہیں، اللہ کی طرف رجوع کرنے والے ہیں، اسی کی عبادت کرنے والے ہیں، اپنے مالک کی حمد و ثنا کرنے والے ہیں۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 5968]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة