مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (مَنْ يَبْحَثُ عَنِ العُيُوبِ سَيُفْضَحُ نَفْسَهُ)
عیب تلاش کرنے والا خود ہی رسوا ہو گا
حدیث نمبر: 5044
5044 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمِنْبَرَ، فَنَادَى بِصَوْتٍ رَفِيعٍ فَقَالَ:"يَا مَعْشَرَ مَنْ أَسْلَمَ بِلِسَانِهِ وَلَمْ يُفْضِ الْإِيمَانُ إِلَى قَلْبِهِ! لَا تُؤْذُوا الْمُسْلِمِينَ وَلَا تُعَيِّرُوهُمْ، وَلَا تَتَّبِعُوا عَوْرَاتِهِمْ ; فَإِنَّهُ مَنْ يَتَّبِعْ عَوْرَةَ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ يَتَّبِعِ اللَّهُ عَوْرَتَهُ، وَمَنْ يَتَّبِعِ اللَّهُ عَوْرَتَهُ يَفْضَحْهُ وَلَوْ فِي جَوْفِ رَحْلِهِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر چڑھے اور باآوازِ بلند فرمایا: ”اے لوگو! جو اپنی زبان سے اسلام لائے ہو جبکہ ایمان ان کے دلوں تک نہیں پہنچا، تم مسلمانوں کو تکلیف مت پہنچاؤ اور نہ انہیں عار دلاؤ اور نہ ہی ان کے عیوب تلاش کرو، کیونکہ جو شخص اپنے (مسلمان) بھائی کے عیوب تلاش کرتا ہے تو اللہ اس کے عیوب کا پیچھا کرتا ہے، اور جس کے عیوب کا اللہ پیچھا کرتا ہے تو وہ اسے رسوا کر دیتا ہے خواہ وہ اپنے گھر کے وسط میں ہو۔“ اسنادہ حسن، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5044]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (2032 وقال: حسن غريب)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن