🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

--. (بَيَانُ أَسْوَأِ العِبَادِ)
بدترین بندے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5115
5115 - وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:"بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ تَخَيَّلَ وَاخْتَالَ  ، وَنَسِيَ الْكَبِيرَ الْمُتَعَالِ، بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ تَجَبَّرَ وَاعْتَدَى، وَنَسِيَ الْجَبَّارَ الْأَعْلَى، بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ سَهَى وَلَهَى، وَنَسِيَ الْمَقَابِرَ وَالْبِلَى، بِئْسَ الْعَبْدُ - عَبْدٌ عَتَى وَطَغَى، وَنَسِيَ الْمُبْتَدَأَ وَالْمُنْتَهَى، بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ يَخْتِلُ الدُّنْيَا بِالدِّينِ، بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ يَخْتِلُ الدِّينَ بِالشُّبَهَاتِ، بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ طَمَعٌ يَقُودُهُ، بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ هَوًى يُضِلُّهُ، بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ رَغَبٌ يُذِلُّهُ"رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَالْبَيْهَقِيُّ فِي"شُعَبِ الْإِيمَانِ". وَقَالَا: لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ أَيْضًا: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: برا ہے وہ بندہ جس نے تکبر کیا اور اس بڑی بلند ذات (اللہ تعالیٰ) کو بھول گیا، برا ہے وہ بندہ جس نے ظلم و زیادتی کی اور وہ غالب و اعلیٰ ذات کو بھول گیا، برا ہے وہ بندہ جو بھول گیا، کھیل کود میں مشغول رہا اور وہ قبروں اور اپنے بو ہونے کو بھول گیا، برا ہے وہ بندہ جس نے تکبر کیا اور سرکشی کی اور وہ (اپنے) آغاز و انجام کو بھول گیا، برا ہے وہ بندہ جو دین کے بدلے دنیا طلب کرتا ہے، برا ہے وہ بندہ جو شبہات کے ذریعے دین کو خراب کرتا ہے، بدترین وہ بندہ ہے جسے طمع و حرص کھینچ لے جاتی ہے، برا ہے وہ بندہ کہ خواہش اسے گمراہ کر دیتی ہے، برا ہے وہ بندہ جسے دنیا کی رغبت ذلیل کر دیتی ہے۔ ترمذی، بیہقی فی شعب الایمان، دونوں نے فرمایا: اس کی سند قوی نہیں، اور امام ترمذی نے یہ بھی فرمایا: یہ حدیث غریب ہے۔ «إِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ»، رواہ الترمذی و البیھقی فی شعب الایمان۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5115]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (2448) و البيھقي في شعب الإيمان (8181)
٭ فيه زيد الخثعمي: مجھول و ھاشم بن سعيد الکوفي: ضعيف .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں