🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

--. (الآفَاتُ الَّتِي تَأْتِي الأُمَّةَ مِنَ الحُكَّامِ)
امت کو حکمراں کی طرف سے ملنے والی آفتیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5151
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 5151 - عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِنَّهُ تُصِيبُ أُمَّتِي فِي آخِرِ الزَّمَانِ مِنْ سُلْطَانِهِمْ شَدَائِدُ، لَا يَنْجُو مِنْهُ إِلَّا رَجُلٌ عَرَفَ دِينَ اللَّهِ  ، فَجَاهَدَ عَلَيْهِ بِلِسَانِهِ وَيَدِهِ وَقَلْبِهِ، فَذَلِكَ الَّذِي سَبَقَتْ لَهُ السَّوَابِقُ، وَرَجُلٌ عَرَفَ دِينَ اللَّهِ، فَصَدَّقَ بِهِ، وَرَجُلٌ عَرَفَ دِينَ اللَّهِ فَسَكَتَ عَلَيْهِ، فَإِنْ رَأَى مَنْ يَعْمَلُ الْخَيْرَ أَحَبَّهُ عَلَيْهِ، وَإِنْ رَأَى مَنْ يَعْمَلُ بِبَاطِلٍ أَبْغَضَهُ عَلَيْهِ، فَذَلِكَ يَنْجُو عَلَى إِبْطَانِهِ كُلِّهِ".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آخری دور میں میری امت کو ان کے بادشاہوں کی طرف سے مصائب و آلام کا سامنا کرنا پڑے گا، اور ان سے صرف وہی شخص بچے گا جو اللہ کے دین کو پہچان کر اپنی زبان، اپنے ہاتھ اور اپنے دل کے ذریعے اس کے خلاف جہاد کرے گا، یہ وہ شخص ہے جسے پہلی سعادتیں حاصل ہوں گی، اور وہ شخص جس نے اللہ کے دین کی معرفت حاصل کی اور اس کی تصدیق بھی کی، اور وہ آدمی جس نے اللہ کے دین کو پہچانا لیکن اس (کے بیان و تفصیل) پر خاموشی اختیار کی، اگر اس نے کسی کو اچھا کام کرتے ہوئے دیکھا تو اس پر اس کو پسند کیا، اور اگر کسی کو برا کام کرتے ہوئے دیکھا تو اس پر اس سے ناراض ہوا۔ یہ شخص اپنی مخفی پسند و ناپسند پر کامیاب ہو گیا۔ اس کی سند ضعیف ہے، اسے بیہقی رحمہ اللہ نے شعب الایمان میں روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5151]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه البيھقي في شعب الإيمان (7587، نسخة محققة بعد ح7180)
٭ فيه سھل بن عمار: ضعيف کما يظھر من ترجمته في لسان الميزان (143/3. 144) و جابر بن زيد عن عمر: منقطع .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں