مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (يُقَامُ لِلْخَيْرِ وَالشَّرِّ)
نیکی اور بدی کے لئے کھڑا کیا جائے گا
حدیث نمبر: 5154
5154 - وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنَّ الْمَعْرُوفَ وَالْمُنْكَرَ خَلِيقَتَانِ، تُنْصَبَانِ لِلنَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَأَمَّا الْمَعْرُوفُ فَيُبَشِّرُ أَصْحَابَهُ وَيُوعِدُهُمُ الْخَيْرَ، وَأَمَّا الْمُنْكَرُ فَيَقُولُ: إِلَيْكُمْ إِلَيْكُمْ وَمَا يَسْتَطِيعُونَ لَهُ إِلَّا لُزُومًا". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَيْهَقِيُّ فِي"شُعَبِ الْإِيمَانِ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے! بے شک نیکی اور برائی دو (الگ الگ) مخلوق ہیں، روز قیامت انہیں لوگوں کے سامنے کھڑا کیا جائے گا، چنانچہ نیکی تو اپنے ساتھیوں (یعنی نیکوکاروں) کو خوشخبری دے گی اور ان سے خیر کا وعدہ کرے گی، جبکہ برائی کہے گی: دور رہو، دور رہو، لیکن وہ (برائی کرنے والے) اس سے جدا نہیں ہو سکیں گے۔“ اسنادہ ضعیف، رواہ احمد و البیہقی فی شعب الایمان۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5154]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أحمد (391/4 ح 19716) و البيھقي في شعب الإيمان (11180، نسخة محققة: 10666)
٭ قتادة والحسن مدلسان و عنعنا .»
٭ قتادة والحسن مدلسان و عنعنا .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف