مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (مَا هُوَ المَالُ الحَقِيقِيُّ لِلإِنْسَانِ؟)
انسان کا حقیقی مال کون سا ہوتا ہے؟
حدیث نمبر: 5166
5166 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (يَقُولُ الْعَبْدُ: مَالِي، مَالِي. وَإِنَّ مَا لَهُ مِنْ مَالِهِ ثَلَاثٌ: مَا أَكَلَ فَأَفْنَى أَوْ لَبِسَ فَأَبْلَى أَوْ أَعْطَى فَاقْتَنَى وَمَا سِوَى ذَلِكَ فَهُوَ ذَاهِبٌ وَتَارِكُهُ لَكَ) . (رَوَاهُ مُسْلِمٌ) .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ کہتا ہے: میرا مال، میرا مال، حالانکہ اس کا مال فقط تین صورتوں میں ہے جو اس نے کھا کر ختم کر دیا، یا پہن کر بو کر دیا یا (اللہ کی راہ میں) دے کر ذخیرہ کر لیا، اور جو ان کے علاوہ ہے وہ تو اسے لوگوں کے لیے چھوڑ کر جانے والا ہے۔“ (رواہ مسلم) [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5166]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2959/4)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح