صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. بَابُ حُسْنُ الْعَهْدِ مِنَ الإِيمَانِ:
باب: صحبت کا حق یاد رکھنا ایمان کی نشانی ہے۔
حدیث نمبر: 6004
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" مَا غِرْتُ عَلَى امْرَأَةٍ مَا غِرْتُ عَلَى خَدِيجَةَ، وَلَقَدْ هَلَكَتْ قَبْلَ أَنْ يَتَزَوَّجَنِي بِثَلَاثِ سِنِينَ لِمَا كُنْتُ أَسْمَعُهُ يَذْكُرُهَا، وَلَقَدْ أَمَرَهُ رَبُّهُ أَنْ يُبَشِّرَهَا بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ، وَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَذْبَحُ الشَّاةَ ثُمَّ يُهْدِي فِي خُلَّتِهَا مِنْهَا".
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ مجھے کسی عورت پر اتنا رشک نہیں آتا تھا جتنا خدیجہ رضی اللہ عنہا پر آتا تھا حالانکہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجھ سے شادی سے تین سال پہلے وفات پا چکی تھیں۔ (رشک کی وجہ یہ تھی) کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو میں کثرت سے ان کا ذکر کرتے سنتی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے رب نے حکم دیا تھا کہ خدیجہ کو جنت میں ایک خولدار موتیوں کے گھر کی خوشخبری سنا دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بکری ذبح کرتے پھر اس میں سے خدیجہ رضی اللہ عنہا کی سہیلیوں کو حصہ بھیجتے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6004]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”مجھے کسی عورت پر اتنا رشک نہیں آتا تھا جس قدر مجھے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا پر آتا تھا، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی میرے ساتھ شادی سے تین سال پہلے وہ فوت ہو چکی تھیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بکثرت ان کا ذکر کرتے سنا کرتی تھی۔ آپ کے رب نے آپ کو حکم دیا کہ انہیں جنت میں ایک خولدار موتیوں کے محل کی خوشخبری سنا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی بکری ذبح کرتے تو اس میں سے ان کی سہیلیوں کو بھی ہدیہ بھیجتے تھے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6004]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة