مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (لَا وِعَاءَ أَسْوَأُ مِنَ البَطْنِ)
پیٹ سے زیادہ برا برتن کوئی نہیں
حدیث نمبر: 5192
5192 - وَعَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:"مَا مَلَأَ آدَمِيٌّ وِعَاءً شَرًّا مِنْ بَطْنٍ ، بِحَسْبِ ابْنِ آدَمَ أُكُلَاتٌ يُقِمْنَ صُلْبَهُ، فَإِنْ كَانَ لَا مَحَالَةَ فَثُلُثٌ طَعَامٌ، وَثُلُثٌ شَرَابٌ، وَثُلُثٌ لِنَفَسِهِ"رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ.
مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”کسی آدمی نے ایسا کوئی برتن نہیں بھرا جو اس کے پیٹ سے زیادہ برا ہو، انسان کے لیے چند لقمے ہی کافی ہیں جو اس کی کمر سیدھی رکھ سکیں، اگر زیادہ کھانا ضروری ہی ہو تو پھر (پیٹ کا) تہائی حصہ کھانے کے لیے، تہائی پانی کے لیے اور تہائی سانس کے لیے ہو۔“ صحیح، رواہ الترمذی وابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5192]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه الترمذي (2380 وقال: حسن صحيح) و ابن ماجه (3349)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح