مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (المَوْتُ يُحِيطُ بِالإِنْسَانِ)
موت انسان کو گھیرے ہوئے ہے
حدیث نمبر: 5268
[ 2 ] بَابُ الْأَمَلِ وَالْحِرْصِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 5268 - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: خَطَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَطًّا مُرَبَّعًا، وَخَطَّ خَطًّا فِي الْوَسَطِ خَارِجًا مِنْهُ، وَخَطَّ خُطُطًا صِغَارًا إِلَى هَذَا الَّذِي فِي الْوَسَطِ مِنْ جَانِبِهِ الَّذِي فِي الْوَسَطِ، فَقَالَ:"هَذَا الْإِنْسَانُ، وَهَذَا أَجَلُهُ مُحِيطٌ بِهِ، وَهَذَا الَّذِي هُوَ خَارِجُ أَمَلِهِ ، وَهَذِهِ الْخُطُوطُ الصِّغَارُ الْأَعْرَاضُ، فَإِنْ أَخْطَأَهُ هَذَا نَهَسَهُ هَذَا، وَإِنْ أَخْطَأَهُ هَذَا نَهَسَهُ هَذَا". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مربع شکل کا خط کھینچا اور ایک خط (اس مربع کے) وسط میں اس سے باہر جاتا ہوا کھینچا اور کچھ اس وسط والے خط کے پہلو میں چھوٹے چھوٹے خط اور کھینچے اور فرمایا: ”یہ انسان ہے اور یہ اس کی اجل (موت) ہے جو اسے گھیرے ہوئے ہے، اور جو باہر کی طرف نکل رہی ہے یہ اس کی امید ہے، اور یہ چھوٹے چھوٹے خطوط پیش آمدہ حادثات ہیں، اگر ایک اس سے خطا کر جاتا ہے تو یہ (دوسرا) اسے دبوچ لیتا ہے اور اگر یہ اس سے خطا کر جاتا ہے تو یہ اسے دبوچ لیتا ہے۔“ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5268]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (6417)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح