🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

--. (مَنْ هُوَ العَاقِلُ وَمَنْ هُوَ الأَحْمَقُ؟)
عقل مند کون اور بے وقوف کون؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5286
5286 - وَعَنْ عُبَيْدِ بْنِ خَالِدٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - آخَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ، فَقُتِلَ أَحَدُهُمَا، ثُمَّ مَاتَ الْآخَرُ بَعْدَهُ بِجُمُعَةٍ  أَوْ نَحْوِهَا، فَصَلَّوْا عَلَيْهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"مَا قُلْتُمْ؟"قَالُوا: دَعَوْنَا اللَّهَ أَنْ يَغْفِرَ لَهُ وَيَرْحَمَهُ وَيُلْحِقَهُ بِصَاحِبِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"فَأَيْنَ صَلَاتُهُ بَعْدَ صَلَاتِهِ، وَعَمَلُهُ بَعْدَ عَمَلِهِ؟"أَوْ قَالَ:"صِيَامُهُ بَعْدَ صِيَامِهِ ; لِمَا بَيْنَهُمَا أَبْعَدُ مِمَّا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ"رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ. [ ص: 3307 ]
عبید بن خالد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو آدمیوں کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا، ان میں سے ایک اللہ کی راہ میں شہید کر دیا گیا، پھر دوسرا اس کے تقریباً ایک ہفتے بعد فوت ہو گیا، صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس کی نمازِ جنازہ پڑھی تو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”تم نے اس کے لیے کیا دعا کی؟“ انہوں نے عرض کیا: ہم نے اللہ سے دعا کی کہ وہ اس کی مغفرت فرمائے، اس پر رحم فرمائے اور اسے اس کے ساتھی سے ملائے۔ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اس کی وہ نمازیں جو اس نے اس کی نمازوں کے بعد پڑھیں وہ کہاں گئیں؟ اور اس نے اس کے بعد جو عمل کیے وہ کہاں گئے؟“ یا فرمایا: ”اس نے اس کے بعد جو روزے رکھے تو وہ کہاں گئے؟ ان دونوں کے مابین تو زمین و آسمان کے مابین فاصلے سے زیادہ فاصلہ ہے۔“ حسن، رواہ ابوداؤد والنسائی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5286]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه أبو داود (2524) و النسائي (4/ 74 ح 1987)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں