مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (لَيْتَنِي أُعِيدُ إِلَى الدُّنْيَا فَأَعْبُدَ كَثِيرًا)
کاش کہ میں دنیا میں لوٹا دیا جاؤں اور خوب عبادت کروں
حدیث نمبر: 5294
5294 - وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَمِيرَةَ - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: إِنَّ عَبْدًا لَوْ خَرَّ عَلَى وَجْهِهِ مِنْ يَوْمَ وُلِدَ إِلَى أَنْ يَمُوتَ هَرَمًا فِي طَاعَةِ اللَّهِ لَحَقَّرَهُ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ ، وَلَوَدَّ أَنَّهُ رُدَّ إِلَى الدُّنْيَا كَيْمَا يَزْدَادَ مِنَ الْأَجْرِ وَالثَّوَابِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ.
محمد بن ابی عمیرہ رضی اللہ عنہ جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی تھے، ان سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”اگر بندہ اپنے یومِ پیدائش سے لے کر بوڑھا ہو کر مرنے تک اللہ کی اطاعت میں سجدہ ریز رہے تو وہ روزِ قیامت اس کو بھی حقیر سمجھے گا اور وہ آرزو کرے گا کہ کاش اسے دنیا میں دوبارہ بھیج دیا جائے تاکہ وہ اجر و ثواب میں اضافہ کر سکے۔“ دونوں روایات کو امام احمد رحمہ اللہ نے نقل کیا ہے۔ «إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ، رَوَاهُ أَحْمَدُ» ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5294]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه أحمد (4/ 185 ح 17800)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح