🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

--. (الإِنْسَانُ يَكُونُ مُؤْمِنًا صَبَاحًا وَكَافِرًا مَسَاءً)
انسان صبح کو مؤمن ہو گا اور شام کو کافر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5399
5399 - وَعَنْ أَبِي مُوسَى - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ:"إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ  ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا، الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ، وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي، فَكَسِّرُوا فِيهَا قِسِيَّكُمْ، وَقَطِّعُوا فِيهَا أَوْتَارَكُمْ، وَاضْرِبُوا سُيُوفَكُمْ بِالْحِجَارَةِ، فَإِنْ دُخِلَ عَلَى أَحَدٍ مِنْكُمْ فَلْيَكُنْ كَخَيْرِ ابْنَيْ آدَمَ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ. وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ: ذَكَرَ إِلَى قَوْلِهِ:"خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي"، ثُمَّ قَالُوا: فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ:"كُونُوا أَحْلَاسَ بُيُوتِكُمْ". وَفِي رِوَايَةِ التِّرْمِذِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ فِي الْفِتْنَةِ:"كَسِّرُوا فِيهَا قِسِيَّكُمْ، وَقَطِّعُوا فِيهَا أَوْتَارَكُمْ، وَالْزَمُوا فِيهَا أَجْوَافَ بُيُوتِكُمْ، وَكُونُوا كَابْنِ آدَمَ". وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”قیامت سے پہلے شبِ تاریک کے ٹکڑوں کی طرح (لگاتار) فتنے ہوں گے، ان میں آدمی صبح کے وقت مومن ہو گا تو شام کے وقت کافر اور شام کے وقت مومن ہو گا تو صبح کے وقت کافر، ان میں بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہو گا، اور ان میں چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا، تم ان میں اپنی کمانیں توڑ ڈالو اور (اپنی کمانوں کے) تانت کاٹ ڈالو اور اپنی تلواروں کو پتھر پر دے مارو، اور اگر وہ (فتنہ) تم میں سے کسی پر داخل ہو گیا تو اسے چاہیے کہ وہ آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں میں سے بہتر بیٹے (ہابیل) کی طرح ہو جائے۔“ اور ابوداؤد کی انہی سے مروی حدیث میں: ”بہتر ہے دوڑنے والے سے“ تک مروی ہے، پھر انہوں نے عرض کیا، آپ ہمیں کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے گھروں میں جم جانا۔“ اور ترمذی کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فتنے کے دور کے متعلق فرمایا: ”ان میں اپنی کمانوں کو توڑ دینا، ان میں اپنے تانت کاٹ ڈالنا اور ان فتنوں کے وقت اپنے گھر کی چار دیواری کو لازم پکڑنا، اور ابن آدم (ہابیل) کی طرح ہو جانا۔“ امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ اسے ابوداؤد اور ترمذی نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفتن/حدیث: 5399]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (4259، 4262) و الترمذي (2204)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں